رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی توسیع پر تاجر برہم


بلوچستان میں کرونا سے متعلق حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج

حکومت بلوچستان نے صوبہ بھر میں لاک ڈاﺅن کی مدت مزید پندرہ دنوں کے لئے بڑھا دی ہے۔ صوبے میں کرونا سے 21 افراد ہلاک چکے ہیں جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 1321 ہے۔

محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت بلوچستان کے ایک حکمنامہ کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کے پیش نظر احتیاطی تدابیر پر عمل دارآمد یقینی بنانے کیلئے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت لاک ڈاﺅن میں 19 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق 5 مئی 2020 سے ہو گا۔ اس سے قبل حکومت نے 5 مئی تک لاک ڈاﺅن میں توسیع کی تھی۔

محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1321 ہو گئی ہے۔

4 مئی تک کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیسٹ رپورٹس میں 103 مزید افراد پازیٹو نکلے ہیں، جنہیں فوری طور پر قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ جب کہ ان کے قریبی افراد کی بھی سکرینگ شروع کر دی گئی ہے۔

اب تک صوبے میں اس وائرس سے 21 اموات ہو چکی ہیں اور 197 افراد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔

4 مئی کو 271 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جب کہ 2089 افراد کے ٹیسٹ کی رپورٹس آنا ابھی باقی ہیں۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت عوام کے مسائل سے آگاہ ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف انجمن تاجران نے لاک ڈاﺅن کی مدت میں اضافہ کرنے اور کاروباری افراد کی مدد نہ کرنے کے خلاف صوبائی حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے وی او اے کو بتایا کہ حکومت لاک ڈاؤن ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے جس سے تاجروں کا نقصان ہو رہا ہے اور ان کا کاروبار تباہ ہو چکا ہے، جس کے خلاف وہ 9 مئی کو دھرنا دیں گے اور 10 مئی سے کاروبار کھول دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG