رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان مخلو ط پارلیمانی گروپ کے ارکان نے نئی پارٹی بنا لی


بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کا ایک منظر، فائل فوٹو

ستارکاکڑ

بلوچستان کی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ قائد اعظم اور بلوچستان اسمبلی کے کئی آزاد ارکان اور قبائلی عمائدین نے نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مشترکہ پر یس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ قائد اعظم کے سابق راہنما سعید احمد ہاشمی ، سینٹر انوارالحق اور دیگر نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک ایسی جماعت کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو پاکستان کے آئین کے دائر ہ کار میں رہ کر بلوچستان کے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کر ے ۔

پارٹی کے مر کزی ترجمان سینٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بلوچستانیوں کے جائز حقوق کے لئے چاہے وہ وفاقی ملازمتوں کا کو ٹہ ہو، چاہے وفاقی اداروں یا کارپوریشنوں میں صوبے کی نمائندگی ہو ، چاہے سی پیک کے منصوبے ہوں، لوگوں کو ہر جگہ بلوچستان عوامی پارٹی حقوق کی جنگ لڑتی ہوئی نظر آئے گی۔

نئی پارٹی کی تشکیل پر سیاسی مبصر رشید بلوچ کا کہنا ہے کہ بلو چستان کو اس وقت اہم مسائل درپیش ہیں نئی سیاسی پارٹی اگر ان مسائل کا کو ئی حل نکالنے کا پروگرام پیش کرتی تو شاید لوگ ان کی طرف توجہ دیتے لیکن انہوں نے ایسا کو ئی پروگرام پیش نہیں کیا۔ رشید بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک تو بلوچستان کو اپنے حقوق ملنے چاہیں، دوسرا صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ ے روزگاری ہے، تیسرا بڑا مسئلہ بدعنوانی کا ہے۔ اگر نئی پارٹی یہ تین مسائل حل کر سکی تو بہت اچھی بات ہوگی۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ نواز کی صوبائی حکومت کے خلاف اسی پارٹی کے اکثریتی اور مسلم لیگ قائد اعظم کے پانچ ارکان اسمبلی نے حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کے ساتھ مل کر وزیر اعلیٰ نواب ثنا ءاللہ کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحر یک پیش کر کے اُسے ختم کردیا تھا جس کے بعد مسلم لیگ قائداعظم رکن اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجوکو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔

نئے پارلیمانی گروپ نے رواں ماہ کے پہلے عشرے میں سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر اپنے گروپ کے چھ آزاد سینیٹروں کو منتخب کرایا اور بعد میں پیپلزپارٹی اور پاکستان تحر یک انصاف کی حمایت سے سینیٹ کے چیئر مین کا عہدہ حاصل کر لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG