رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں نئے قرنطینہ مراکز بنانے کی تیاریاں


(فائل فوٹو)

بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ بدھ کو پاکستان اور ایران کی سرحد کے قریب تفتان کے قرنطینہ میں موجود سندھ سے تعلق رکھنے والے 750 زائرین کو صوبے میں بھیج دیا گیا ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ایران سے پاکستان آنے والے 2200 سے زائد زائرین کو تفتان کے قریب چار مقامات پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ کے جنوبی علاقے میاں غونڈی میں قائم قرنطینہ مرکز میں بھی 600 زائرین کو رکھا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ صوبۂ خیبر پختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد زائرین کو ان کے علاقوں میں آج روانہ کر دیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے دو نواحی علاقوں میں نئے قرنطینہ مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ دونوں مراکز میں تفتان سے لائے جانے والے زائرین کو رکھا جائے گا۔ ان سینٹرز میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے موبائل لیبارٹریز بھی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ان مراکز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ ہاﺅس میں ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بدھ کو کوئٹہ کے نواحی علاقے سریاب میں قائم شیخ زید اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں لایا گیا ایک شخص انتقال کر گیا ہے۔ اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالغفار کے مطابق متوفی گزشتہ روز ہی تفتان سے کوئٹہ پہنچا تھا۔ طبیعت خراب کے سبب اسے آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا۔

ڈاکٹر عبدالغفار کے بقول مذکورہ شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ موت کی وجہ دل کا دورہ ہو سکتا ہے۔

کرونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے پاکستان اور ایران کی سرحد 25ویں روز بھی بند ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد بھی 15 یوم سے بند ہے۔

دونوں سرحدوں سے صرف شیعہ زائرین کو آنے اور افغان مہاجرین کو واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے تمام تعلیمی ادارے، درگاہیں اور مزارات، جمنازیم، فزیکل ٹریننگ کیمپس، سوئمنگ پولز اور اسپورٹس کمپلیکس تین ہفتوں تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG