رسائی کے لنکس

برطانیہ مین ٹرمپ کےداخلے پر پابندی، ملک کی مقبول آن لائن مہم


جمعرات کی شام امریکی ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے ملک میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد لگ بھگ نصف ملین کے قریب تھی، جس نے اس سے قبل ایک مقبول ترین آن لائن مہم کے 446,482 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے

مسلم مخالف بیان دینے پر برطانیہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے داخلے پر پابندی کے لیے ایک دستخطی مہم حکومت کے ویب سائٹ پر اب تک کی سب سےمقبول ترین آن لائن مہم بن گئی ہے۔

جمعرات کی شام امریکی ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے ملک میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد لگ بھگ نصف ملین کے قریب تھی،جس نے اس سے قبل ایک مقبول ترین آن لائن مہم کے446,482 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ آن لائن درخواست پیر کے روز 'پٹیشن یوکے گورنمنٹ اینڈ پارلیمنٹ' کے ویب سائٹ پر لانچ کی گئی ، جب ڈونالڈ ٹرمپ نےگذشتہ ہفتے دو مسلمانوں کی طرف سے امریکی ریاست کیلی فورنیا میں فائرنگ اور ہلاکتوں کے تناظر میں امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ بند کرنے کے لیے کہا تھا۔

برطانیہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے داخلے پر پابندی کی مہم انسانی حقوق کی علمبردار اسکاٹش خاتون سوزین کیلی کی طرف سےشروع کی گئی ہے۔۔

جمعرات کی شب 10 بجکر 12 منٹ تک اس درخواست کی حمایت میں 478,495 لوگوں نے دستخط کئے ہیں۔

برطانوی قانون کے تحت عوامی مہم جسے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے، اس پر برطانوی دارالعوام کے اراکین بحث کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق آن لائن پٹیشن پر برطانوی دارالعوام میں کل یعنی جمعے کو بحث متوقع ہے۔

بدھ کی شام ڈونالڈ ٹرمپ نے اس مہم کےجواب میں برطانوی سیاست دانوں پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔

اس بیان میں ٹرمپ کی طرف سے اسکاٹ لینڈ میں اپنی بھاری سرمایہ کاری کا ذکر کیا گیا ہے،جو انھوں نے ٹرمپ انٹرنیشنل گولف کورس کے منصوبے پر خرچ کی ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی سیاست دانوں کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے تھا۔

دریں اثناء ایک اسکاٹش یونیورسٹی رابرٹ گورڈن یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو 2010 میں دی جانے والی اعزازی ڈگری کو مسلم مخلاف بیانات کے تناظر میں منسوخ کردیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور لندن کے میئر بورس جانسن نے ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات کی مذمت کی ہے۔ بورس جانسن نے ارب پتی تاجر اور سیاستدان ڈونالڈ ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انھوں نے جہالت کی نمائش کی ہے۔ تاہم، بورس جانسن نے ڈونالڈ ٹرمپ کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی کی حمایت نہیں کی ہے۔

برطانیہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے داخلے پر پابندی کی مخالفت میں اسی ویب سائٹ پر ایک درخواست ڈالی گئی ہے، جس کی حمایت میں جمعرات کی شب تک 21 ہزار سے زائد لوگوں نے دستخط کئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG