رسائی کے لنکس

logo-print

بنکاک میں حکومت کے خلاف ایک لاکھ احتجاجی مظاہرین کا اجتماع


تھائى لنڈ میں، جہاں ایک طرف حکومت کے مخالف ہزاروں احتجاجی مظاہرین کے ایک لیڈر نے وعدہ کیا ہے کہ اگر اُن کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو مظاہرین خود اپنا خون بہائیں گے، تو دوسری طرف وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ کو برخواست کردینے کے مطالبے کو ردّ کردیا ہے۔

وزیرِ اعظم ابھیسِت وِجا جیوا نے پیر کے روز قومی ٹیلی پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی مخلوط حکومت کے ارکان نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرین کے مطالبات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔

بنکاک میں اتوار کے روز سے لگ بھگ ایک لاکھ لوگ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔مظاہرین کے لیڈر نتّاوُٹ سائى کوانے کہا ہے کہ انہوں نے مظاہروں میں شامل ہر شخص سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے جسم سے تھوڑا خون نکالے اور منگل کے روز دارالحکومت میں حکومت کے دفاتر کے باہر، عوام کی قربانیوں کی ایک بصری نمائیندگی کے طور پر اُس خون کو بہا دے۔

پیر کے روز اس سے پہلے ہزاروں لوگ احتجاجی مظاہرے کو اُن فوجی بارکوں تک لیجانے کے لیے قافلوں میں شامل ہوگئے ، جہاں حکومت کے لیڈر اجلاس کررہے تھے۔وزیرِ اعظم کے اعلان کے بعد بہت سے لوگ واپس شہر کے مرکز میں پہنچ گئے۔

XS
SM
MD
LG