رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: حکومت کا اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکرات سے انکار


بنکاک کے کچھ حصوں میں، جہاں فوجیوں کو حکومت مخالف مظاہرین کی طرف سے بدستور شدید مقابلے کا سامنا ہے، کرفیو کے نفاذ کا منصوبہ منسوخ کردیا ہے

سرخ پوش مخالفین نے اتوار کے روز کہا تھا کہ اگر حکومت پکڑ دھکڑ بند کر دے تو وہ مذاکرات کو تیار ہیں۔

حکومت نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی غیر کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔

سرکاری ترجمان پانِتن وتنایاگورن نے اتوار کے روز کہا کہ بنکاک میں مظاہرین کے علاقے کو بند کرنے کے لیے فوج بدستور کارروائی کرتی رہے گی۔

اتوار ہی کے روز تھائی لینڈ میں فوج نے بنکاک کے کچھ حصوں میں، جہاں فوجیوں کو حکومت مخالف مظاہرین کی طرف سے بدستور شدید مقابلے کا سامنا ہے، کرفیو کے نفاذ کا منصوبہ منسوخ کردیا ہے۔

فوج کے عہدے داروں نے اتوار کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت اب کرفیو لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ اس سے قبل فوج نے یہ کہا تھا کہ وہ اتوار کی شام سےکرفیو لگادے گی۔ اس فیصلے کی منسوخی کی وجوہات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اسی اثنا میں، عہدے داروں نے اتوار کے روز یہ اعلان کیا کہ خون ریز جھڑپوں کے باعث، جس کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے، تعطیلات کے بعد پیر کو اسکول دوبارہ نہیں کھل رہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب سکول 24 مئی سے کھلیں گے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابلق ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ پیر اور منگل کو عام تعطیل رہے گی تاکہ حکومت موجودہ بحران سے نمٹ سکے۔

وزیر اعظم ابھیشیت راجے جیوا نے ہفتے کی رات ٹیلی ویژن پر اپنی تقریر میں کہا کہ ان کی حکومت کا منصوبہ ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے، کم سے کم نقصان کے ساتھ صورت حال کو معمول پر لایا جائے۔



XS
SM
MD
LG