رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش: کالعدم تنظیم کے تین افراد کی سزائے موت برقرار


ان تینوں افراد کو 2004 میں ایک برطانوی سفیر پر گرنیڈ سے حملہ کرنے پر یہ سزا سنائی گئی تھی۔

بنگلہ دیش کی عدالت عظمٰی نے کالعدم تنظیم حرکت الجہاد کے ایک سربراہ اور اُن کے دو ساتھیوں کو سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان تینوں افراد کو 2004 میں ایک برطانوی سفیر پر گرنیڈ سے حملہ کرنے پر یہ سزا سنائی گئی تھی۔

کالعدم حرکت الجہاد الاسلامی کے لیڈر مفتی عبدالحنان کے وکیل نے بدھ کوسپریم کورٹ میں کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمٰی ہی میں نظر ثانی کی اپیل کریں گے، واضح رہے کہ اس طرح اپیل پر نظر ثانی کے بہت ہی کم امکانات ہوتے ہیں۔

عبدالحنان اور اُن کے دو ساتھیوں کو 2008 میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ ان تنیوں نے بنگلہ دیشی نژاد برطانوی ہائی کمشنر انور چوہدری پر 2004 میں اُس وقت حملہ کیا تھا جب وہ ایک درگاہ کا دورہ کر رہے تھے۔

اس حملے میں انور چوہدری تو محفوظ رہے البتہ تین پولیس اہلکار ہلاک اور 70 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

عبدالحنان نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں حرکت الجہاد کی قیادت سنھبالی تھی۔ اُنھیں 2001 میں ایک اور حملے میں کردار پر بھی عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے سال نو کے موقع پر کیے جانے والے اس حملے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

عبدالحنان کو 2004 میں شیخ حسینہ واجد پر حملے کے ایک مقدمے کا بھی سامنا ہے، اس حملے میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ شیخ حسینہ ملک کی وزیراعظم ہیں اور 2004 میں جب یہ حملہ کیا گیا تو اُس وقت وہ حزب مخالف کی راہنما تھیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے 2005 میں حرکت الجہاد کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG