رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپ میں کرونا وائرس کے دو پازیٹو کیس


کاکسز بازار کے قریب قائم دنیا کا سب سے گنجان آباد روہنگیا پناہ گزیں کیمپ، 5 مئی 2020

بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں قائم پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس ملک میں دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا کیمپوں میں رہ رہے ہیں جو میانمر کی فوج کے ظلم و تشدد سے فرار ہو کر بنگلہ دیش آ گئے تھے۔ جمعرات کے روز ایک عہدے دار نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ گنجان آباد کیمپوں میں مہلک وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک سینئر عہدے دار اور اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ روہنگیا نسل کے ایک پناہ گزین اور ایک دوسرے شخص میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس کیمپ میں کرونا کا پہلا تصدیق شدہ کیس ہے۔ یہ کیمپ دنیا کے کسی بھی گنجان آباد شہر سے زیادہ گنجان ہے، جس کی وجہ سے یہاں ملک وائرس پھیلنے کا خطرہ کہیں زیادہ ہے۔

پناہ گزینوں کی مدد اور بحالی کے کاموں کے کوآرڈی نیٹر محب عالم تعلقدار نے خبر رساں ادارے، رائٹرز کو بتایا کہ پازیٹو ٹیسٹ کے بعد دونوں افراد کو قرنطینہ کے مرکز میں بھیج دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بتایا کہ دوسرا شخص ایک بنگالی ہے جو پناہ گزیں کیمپ کے قریب واقع آبادی میں رہتا ہے۔

بنگلہ دیش میں عالمی وبا کے کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جمعرات کی سہ پہر تک ملک میں متاثرین کی تعداد تقریباً 19ہزار اور اموات 283 تک پہنچ چکی ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کاکسز بازار کے مضافات میں واقع گنجان آباد پناہ گزین کیمپ میں وبا کے پھیلنے سے انسانی ہمدردی کے بحران کا خطرہ جنم لے سکتا ہے۔

بنگلہ دیش میں 'سیو دی چلڈرن' پروگرام کی ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر شمیم جہاں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے باعث ملک میں صحت کی دیکھ بھال کی استعداد پہلے ہی دباؤ میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے بنگلہ دیش میں 16 کروڑ کی آبادی کے لیے اندازاً دو ہزار وینٹی لیٹرز ہیں، جب کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں میں، جہاں 10 لاکھ سے زیادہ افراد رہ رہے ہیں، وہاں ایک بھی وینٹی لیٹر نہیں ہے۔ ان کے لیے اس وقت تک انتہائی نگہداشت کا یونٹ اور بستر نہیں ہیں۔

انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب جب کہ مہلک وائرس کاکسز بازار میں قائم دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ میں داخل ہو چکا ہے، ہمیں خطرہ ہے کہ اس سے ہزاروں اموات ہو سکتی ہیں۔ یہ وبا بنگلہ دیش کو کئی عشرے پیچھے دھکیل سکتی ہے۔

'انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی' کے بنگلہ دیش کے لیے کنٹری ڈائریکٹر منش اگروال کا کہنا ہے کہ یہاں صحت کے مراکز میں عملے اور جگہ کی قلت ہے، جب کہ کیمپوں میں رہنے والوں کو مناسب مقدار میں صابن اور پانی دستیاب نہیں، جس کی مدد سے وہ خود کو وائرس سے محفوظ رکھ سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کیمپ میں ایک مربع کلومیٹر کے علاقے میں 40 سے 70 ہزار کے لگ بھگ لوگ رہ رہے ہیں، جو ڈائمنڈ پرنسس نامی کروز بحری جہاز پر سوار ہونے والے لوگوں کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا زیادہ ہیں۔ اس جہاز پر وائرس چین کے شہر ووہان کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تیزی سے پھیلا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ صحت کی سہولتوں میں اضافہ کیے بغیر، صفائی ستھرائی کا انتظام بہتر بنائے بغیر اور مشتبہ مریضوں کو الگ کیے بغیر، خطرات بہت زیادہ ہیں۔ وبا نہ صرف کیمپ میں تیزی سے پھیل سکتی ہے بلکہ آس پاس کی آبادیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جہاں معیار زندگی کم اور بیماریوں کا تناسب زیادہ ہے۔ یہ لوگ وائرس کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG