رسائی کے لنکس

'امریکی حکومت کے پاس ویکسین کی تیاری اور تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں'


امریکہ کے محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے پاس کرونا وائرس کی ویکیسن دستیاب ہونے کے بعد اس کی پیداوار یا منصفانہ طور پر تقسیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اگر رہنماؤں نے فیصلہ کن کردار ادا نہ کیا تو امریکی قوم کے لیے آئندہ موسم سرما تاریک ترین ثابت ہوسکتا ہے، جس میں بہت زیادہ کیسز اور اموات ہوں گی۔

ویکسین کے ماہر رک برائٹ نے یہ بیان کانگریس کی ایک قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں دیا۔ وہ کچھ عرصہ پہلے تک محکمہ صحت کے جراثیمی دفاع سے متعلق ادارے کے سربراہ تھے۔ لیکن، ٹرمپ انتظامیہ کو وبا کی تیاری کے لیے خبردار کرنے پر انھیں عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس ویکسین بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور یہ پریشان کن بات ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا قانون سازوں کو تشویش ہونی چاہیے تو انھوں نے کہا، ''یقینی طور پر''۔

رک برائٹ کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک ایسے منصوبے کی ضرورت ہے جس کے تحت ویکسین بننے کے بعد اس کی کروڑوں کی تعداد میں پیداوار اور منصفانہ طور پر عوام کو فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ ایک اینٹی وائرل دوا کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوئی ہے۔ لیکن اس کی تقسیم جس طرح ہوئی ہے اس سے وہ مطمئن نہیں۔ اسپتالوں کے دواخانوں نے بتایا ہے کہ انھیں محدود تعداد میں فراہمی ہوئی ہے اور اس میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے 'آپریشن وارپ اسپیڈ' شروع کیا ہے، جس کا مقصد ویکسین دستیاب ہوتے ہی اس کی تیزی سے پیداوار، تقسیم اور عوام کو فراہمی ہے۔

رک برائٹ نے بتایا کہ ان کے لیے ایک پریشان کن وقت تب آیا جب انھوں نے این 95 ماسک کی تیزی سے پیداوار شروع کرانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ جنوری میں انھیں طبی سامان فراہم کرنے والی کمپنی کے ایک منتظم نے ای میلز میں بتایا کہ این 95 ماسک کی سپلائی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔

رک برائٹ کے مطابق، وہ محکمہ صحت میں جس اعلیٰ سطح تک رابطے کرسکتے تھے، انھوں نے کیے، لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ طبی عملے کے لیے بحران پیدا ہونے والا ہے، کیونکہ ہم پہلے ہی وقت سے پیچھے تھے اور جن لوگوں نے فیصلے کرنے تھے، وہ نہیں کر رہے تھے۔

کمیٹی میں شامل ری پبلکن قانون ساز رے برائٹ پر براہ راست حملے کرنے میں محتاط رہے۔ البتہ، مارک وین ملنز نے اعتراض کیا کہ وہ پہلے علالت کی رخصت پر تھے اور اب بھی چھٹی پر ہیں۔ لیکن، بھاری تنخواہ مسلسل وصول کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کام پر جانے کے لیے بیمار ہیں۔ لیکن یہاں آنے کے لیے بھلے چنگے ہیں۔ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی۔

وفاقی انتظامیہ کی کاکردگی پر نظر رکھنے والے ایک ادارے کا کہنا ہے کہ اس بات کا جواز موجود ہے کہ رک برائٹ کو ان کے عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا کہ انھوں نے محکمہ صحت میں خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔

رک برائٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے پاس وقت گھٹ رہا ہے۔ اگر ہم وبا سے نمٹنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر قومی سطح کا ردعمل تیار کرنے میں ناکام رہے تو مجھے خدشہ ہے کہ وبا کے پھیلاؤ اور مدت میں اضافہ ہوگا جس سے بہت زیادہ کیسز اور اموات ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG