رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش: کچی آبادی میں آتشزدگی سے 10 ہزار افراد بے گھر


کچی آبادی میں رہائش پذیر بیشتر افراد قریبی فیکٹریوں میں ملازمت کرتے ہیں جو آگ لگنے کے وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے میں واقع کچی آبادی میں آتش زدگی کے باعث سیکڑوں گھر جل کر خاک ہوگئے جس کے نتیجے میں 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جمعے کی شب میر پور ٹاؤن کی کچی آبادی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے جھونپڑیوں اور کچے مکانات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

میرپور کی یہ کچی آبادی بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھی جہاں آتش زدگی کے واقعے میں تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کچی آبادی میں رہائش پذیر بیشتر افراد قریبی فیکٹریوں میں ملازمت کرتے ہیں جو آگ لگنے کے وقت وہاں موجود نہیں تھے اور عید کی چھٹیاں منانے اپنے اپنے آبائی علاقوں میں گئے ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے باعث 750 گھر مکمل طور پر تباہ اور 1200 کے قریب متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے باعث 750 گھر مکمل طور پر تباہ اور 1200 کے قریب متاثر ہوئے۔

​مقامی پولیس چیف غلام ربانی کا کہنا ہے کہ اگر عید کی چھٹیاں نہ ہوتیں تو بڑے نقصان کا خدشہ تھا۔ تاہم متاثرین کو قریبی اسکولوں میں عارضی طور پر منتقل کردیا گیا ہے۔

میونسپل افسر شفیع الاعظم کے مطابق متاثرہ افراد کو کھانا، پانی، ٹوائلٹ اور بجلی کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جب کہ حکام متاثرین کی مستقل رہائش کا بھی بندوبست کر رہے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے جونیئر افسر انعام الرحمان کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں 1200 گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ 750 گھر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے ہیں۔

انعام الرحمان کے بقول حکومت نے ابتدائی طور پر متاثرین کے لیے 500 ٹن چاول اور 13 لاکھ ڈکا امدادی رقم جاری کی ہے۔ جب کہ آگ لگنے کی وجوہات اور نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔

انہوں نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ کچی آبادی میں بڑی تعداد میں لوگوں کے گھر تباہ ہوئے ہیں۔

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق کچی آبادی میں آتشزدگی کے باعث 10 ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں جب کہ امریکی نیوز چینل اے بی سی کے مطابق واقعے میں 15 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG