رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کا بنگلہ دیش میں اپنی موجودگی کا دعویٰ


فائل فوٹو

ایک ایسے وقت میں جب کہ شام اور عراق میں داعش کو شکست ہو چکی ہے اور وہ اپنی آخری پناہ گاہوں میں بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، اس کی جانب سے بنگلہ دیش میں اپنی موجودگی کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

بنگلہ دیش سے آئی ایس آئی ایس یعنی داعش نے اپنی پہلی ویڈیو جاری کی ہے۔ جس میں اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ ابوبکرالبغدادی بدستور ان کے رہنما ہیں۔

آٹھ منٹ دورانیے کی اس ویڈیو میں بنگلہ دیش میں داعش کے لیے کام کرنے والے کارندوں کو دکھایا گیا ہے جن میں دو خودکش حملہ آور بھی شامل ہیں۔ ان کے پاس مشین گنیں اور خودکش جیکٹیں تھیں اور وہ کسی جگہ حملے کیے لیے تیاری کی حالت میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق، شام، افغانستان اور میانمر میں مسلمانوں کے خلاف تشدد جاری ہے، جسے روکنے کے لیے جہاد پر جانا ضروری ہو گیا ہے۔

آر اے بی میڈیا ونگ کے ڈائریکٹر کرنل عمران الحسن نے کہا ہے کہ حکام صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور داعش کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو کے مصدقہ ہونے کی جانچ پرکھ کی جا رہی ہے۔

وائس آف امریکہ کی بنگلہ سروس کے مطیع الرحمن چوہدری نے ڈھاکہ سے بتایا ہے کہ کرنل عمران الحسن نے کہا ہے کہ ہم محض ایک ویڈیو کی بنیاد پر اس کی سچائی کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ ہم نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی شخص جعلی شناخت کے ساتھ کہیں بھی کوئی ویڈیو اپ لوڈ کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی طرح بھارت بھی ایسی کسی بھی سرگرمی کا گہری نظر سے جائزہ لے رہا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے یہ خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ عراق اور شام میں شکست کے بعد داعش اپنا مرکز جنوبی ایشیا، بالخصوصا افغانستان منتقل کر رہا ہے۔

افغانستان کے بعض علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں اور افغان فورسز امریکی قیادت کے فوجی اتحاد کے ساتھ ان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔

داعش متعدد بار بھارتی کنٹرول کے کشمیر اور پاکستان میں اپنے گروپ کی موجوگی کے دعوے کر چکی ہے، تاہم بھارت اور پاکستان دونوں ہی اس کی تردید کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG