رسائی کے لنکس

logo-print

غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش چھوڑ کر جانے والے 'ذہنی بیمار' ہیں: وزیراعظم


وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "ان لوگوں کے لیے یہاں کافی کام ہے، پھر بھی یہ خطرناک راستوں سے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہ تارکین عالمی سطح پر بنگلہ دیش کا تشخص خراب کر رہے ہیں۔"

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا ہے کہ ملک چھوڑ کر جانے والے غریب تارکین "ذہنی بیمار" ہیں ملک کی شبیہہ کو خراب کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ دیگر جنوب ایشیائی ملکوں کے خطرناک سفر کے لیے انسانی اسمگلروں کو رقوم دے رہے ہیں وہ "بنگلہ دیش میں بہتر زندگی گزار سکتے تھے۔"

"ان لوگوں کے لیے یہاں کافی کام ہے، پھر بھی یہ خطرناک راستوں سے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہ تارکین عالمی سطح پر بنگلہ دیش کا تشخص خراب کر رہے ہیں۔"

سرکاری خبر رساں ایجنسی "بنگلہ دیش سنگبد سنگستھا کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "انسانی اسمگلروں اور ملک چھوڑ کر جانے والوں کو "سزا دی جائے گی۔"

شیخ حسینہ واجد کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں پولیس نے اجتماعی قبریں دریافت کی ہیں اور باور کیا جاتا ہے کہ ان میں بنگلہ دیش اور میانمار سے آنے والے تارکین وطن کی باقیات ہیں۔

ملائیشین وزیر داخلہ زاہد حامدی کے مطابق یہ قبریں تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب ان دیہاتوں سے ملیں جنہیں انسانی اسمگلر سرحد کے آر پار جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

حال ہی میں ملائیشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ نے ان ہزاروں تارکین وطن کو عارضی طور پر پناہ دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی جو ان کے ساحلوں تک پہنچے تھے یہاں اس کوشش میں شدید مشکلات کا شکار تھے۔

میانمار اور بنگلہ دیش سے آنے والے ان افراد کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے جن میں اکثر خطرناک سمندری سفر اور اس دوران نامساعد حالات میں دوران سفر ہی دم توڑ چکے ہیں۔

ملائیشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً سات ہزار تارکین وطن کو "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک سال کے عارضی طور پر پناہ دیں گے"۔

XS
SM
MD
LG