رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: ہڑتال سے معمولات زندگی معطل


بنگلہ دیش: ہڑتال سے معمولات زندگی معطل
بنگلہ دیش: ہڑتال سے معمولات زندگی معطل

بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کی جانب سے بلائی جانے والی ملک گیر ہڑتال کے باعث دارالحکومت ڈھاکہ میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام اورکاروبار اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کی جانب سے بلائی جانے والی ملک گیر ہڑتال کے باعث دارالحکومت ڈھاکہ میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام اورکاروبار اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے، جس کی قیادت سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے پاس ہے، کہاہے کہ انہوں نے منگل کی ہڑتال مسز ضیا سے ان کی فوجی ملکیتی رہائش گاہ سے زبردستی بے دخلی کے خلاف کی تھی۔ وہ اس گھر میں تین عشروں تک مقیم رہیں۔

کسی ممکنہ تشدد کو روکنے کے لیے ڈھاکہ میں ہزاروں پولیس اہل کار تعینات کیے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ رات بھر کے دوران ایک درجن سے زیادہ گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔

منگل کی ہڑتال ،ان دو ہفتوں کے دوران، مسز ضیا کی اپنے گھر سے جبری بے دخلی کے خلاف دوسری ہڑتال تھی۔ بی این پی نے کہا ہے کہ حکومت مسز ضیا کے ایک ہزار سے زیادہ حامیوں کو گرفتار کرچکی ہے۔

حکومت نے حزب اختلاف کے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ مسز ضیا کو اس گھر سے ، جہاں وہ گذشتہ30 سال سے رہ رہی تھیں، نکالے جانے کا فیصلہ سیاسی تھا۔

خالی کرایا جانے والا گھر مسز ضیا کو، جو دومرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں، ان کے شوہرضیاالرحمن کے 1981ء میں ایک بغاوت کے دوران قتل کے بعد، جو اس وقت ملک کے صدر تھے، انسانی ہمدردی کے تحت لیز پر دیا گیاتھا۔

مسز ضیا نے الزام لگایا ہے کہ فوج نے ان سے زبردستی گھر خالی کروایا ہے۔

XS
SM
MD
LG