رسائی کے لنکس

بھارت کو ہرا کر بنگلہ دیش کی انڈر 19 ٹیم ورلڈ کپ کی فاتح


بنگلہ دیش کی انڈر 19 فاتح کرکٹ ٹیم

ایسے میں جب بنگلہ دیش کی قومی کرکٹ ٹیم پاکستان کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں اننگ کی شکست کے خطرے سے دو چار ہے۔ جونیئر ٹیم نے انڈر 19 ورلڈ کپ جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

بنگلہ دیش کی ٹیم نے پہلی بار یہ اعزاز دفاعی چیمپین بھارت کو فائنل میں تین وکٹوں سے شکست دے کر حاصل کیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے شہر پوچیفس ٹروم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں بھارت کی پوری ٹیم 42.1 اوورز میں 177 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

بھارت کی جانب سے جیسوال کامیاب بلے باز رہے جنہوں نے آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 88 رنز بنائے۔ تلک ورما 38 جب کہ ڈی سی جورل 22 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

بنگلا دیش کی جانب سے اویشیک داس نے تین جب کہ شریف السلام اور تنظیم حسن نے دو، دو اور رقیب الحسن نے ایک وکٹ حاصل کی۔

بنگلہ دیش کی ٹیم نے پراعتماد انداز میں ایک کم ہدف کا تعاقب شروع کیا۔ لیکن پچاس پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد ٹیم دباؤ میں آ گئی۔

سیمی فائنل میں سنچری اسکور کرنے والے محمودالحسن آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو نہ صرف بنگلہ دیش کی دوسری وکٹ 62 پر گر گئی بلکہ کریز پر موجود سیٹ بلے باز پرویز ایمان بھی ریٹائرڈ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

بھارت کی جانب سے اس موقع پر لیگ اسپن بالر روی بشنوئی، فاسٹ بالرز کارتک تیاگی اور ایس مشرا نے بہت نپی تلی بالنگ سے بنگلہ دیش کی ٹیم کو پریشان کیا۔

102 کے اسکور پر چھ وکٹیں گرنے کے بعد بھارت کی ٹیم میچ پر گرفت مضبوط کرتی نظر آئی لیکن اس موقع پر کپتان اکبر علی کی ذمہ دارانہ بلے بازی سے اسکور 170 پر جا پہنچا۔

ابھی فتح میں سات رنز درکار تھے کہ موسم کی خرابی کے سبب میچ کا فیصلہ ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت کرنا پڑا اور بنگلہ دیش کی ٹیم کو فاتح قرار دے دیا گیا۔

پرویز ایمان نے 47 اور کپتان اکبر علی نے 43 رنز کی اننگز کھیلی۔ بھارت کی جانب سے بشنوئی نے چار، ار مشرا نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ بھارت کے جوان سال لیگ اسپنر بشنوئی اور فاسٹ بالر تیاگی دونوں کو آئی پی ایل میں کنٹریکٹ مل چکا ہے۔

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر جلال الدین نے جو ڈومیسٹک سطح پر کوچنگ اور کرکٹ کی ڈیویلپمنٹ پر کام کرتے ہیں، وائس آف امریکہ کے ساتھ گفگتو کرتے ہوئے کہا کہ انڈر 19 ورلڈ کپ کا فاتح بننا بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے لیے دور رس اثرات رکھتا ہے۔

’’ مجھے 2010 میں بنگلہ دیش کے ڈومیسٹک کرکٹ سسٹم کو دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ بہت سائنسی طریقے سے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ حکومتی اداروں کی سرپرستی میں جوان سال کھلاڑیوں کو پانچ سال کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔ اس فتح سے نچلی سطح پر کرکٹ کے لیے تحریک بڑھے گی‘‘۔

بھارت کی ٹیم اگرچہ اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر سکی لیکن جلال الدین کے بقول ٹیم نے پورا ٹورنامنٹ بہت اچھا کھیلا۔

’’ بھارت میں کرکٹ جنون کی حد تک کھیلی جاتی ہے۔ ان کی نہ صرف قومی ٹیم تمام فارمیٹس میں تسلسل سے پرفارم کر رہی ہے بلکہ نچلی سطح پر بھی بہت مربوط نظام موجود ہے۔ ان کے لڑکوں کے اندر اعتماد اور جوش قابل دید ہوتا ہے‘‘

اس ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم بھی سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہی لیکن یہاں بھارت کے خلاف یک طرفہ میچ میں دس وکٹوں سے ہار گئی تھی۔ تاہم اس ایونٹ میں پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش، تینوں ایشیائی ٹیمیں سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ چوتھی کوالیفائر نیوزی لینڈ کی ٹیم تھی۔ کیا وجہ ہے کہ اشیا کی تین ٹیمیں سیمی فائنل کھیلنے میں کامیاب رہیں؟ اس بارے میں جلال الدین کہتے ہیں،

’’ ایسا نہیں کہ آسٹریلیا، انگلینڈ جنوبی افریقہ اور دیگر ملکوں میں انڈر 19 کا سسٹم نہیں ہے۔ وہ بہت سائنسی انداز میں اپنی کرکٹ کو آگے بڑھا رہے ہیں، البتہ ایشیائی ریجن میں کرکٹ کے لیے جوش و خروش بہت زیادہ ہے۔ اور پھر بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں آبادی کے تناسب سے زیادہ ٹیلنٹ سامنے آتا ہے‘‘۔

ایسے میں جب بنگلہ دیش میں کرکٹ کے دلدادہ اپنے جونئیر ٹیم کی فتح کا جشن منا رہے ہیں، پاکستان کے دورے پر آئی قومی کرکٹ ٹیم کو راولپنڈی ٹیسٹ میں اننگ کی شکست کا سامنا ہے۔ کھیل کے تیسرے روز کے اختتام پر بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگ میں 126 رنز بنائے تھے اور اس کے چھ کھلاڑی آوٹ ہوئے تھے۔

ٹیم کو اننگ کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 86 رنز کی ضرورت ہے۔ تیسرے دن کی اہم بات پاکستان کے نوجوان فاسٹ بالر نسیم شاہ نے ہیٹرک کرتے ہوئے کہ نہ صرف مہمان ٹیم کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والے کم عمر ترین بالر بن گئے۔

یاد رہے کہ نسیم شاہ کی عمر انیس سال سے کم ہے اور پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے کوچ سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد نے پاکستان کی قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر اور کوچ مصباح الحق سے کہا تھا کہ انڈر 19 ورلڈ کپ کے لیے نسیم شاہ کو اجازت دی جائے۔

جلال الدین کہتے ہیں کہ اعجاز احمد کا مطالبہ ایک کمزور کوچ کا مطالبہ تھا جو صرف ایک ایونٹ جیتنے کے لیے کچھ بھی کرنا چاہتا ہے، حالانکہ ان کے بقول، نچلے لیول کی کرکٹ کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ قومی ٹیم کے لیے ٹیلنٹ کا سامنے لایا جائے۔ جب ایک لڑکا پہلے ہی ٹیسٹ کھیل گیا ہے تو اسے واپس انڈر 19 کھلانے سے اس کے حوصلے پست ہوتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG