رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کی سڑکوں پر اب چلے گی ’بسنتی ایکسپریس‘


نئی بس سروس میں کنڈکٹر اور ڈرائیور بھی خواتین ہوں گی۔ خواتین ڈرائیورز ابھی زیر تربیت ہیں۔ اگلے دو ماہ میں ان کی تربیت مکمل ہوجائے گی اور بس سروس بھی فعال بنادی جائے گی: ذرائع

کراچی ... ’بسنتی ایکسپریس۔۔۔‘جی نہیں۔۔یہ کسی انڈین فلم کا نام نہیں بلکہ خواتین کے لئے چلائی جانے والی خصوصی بس سروس کا نام ہے۔۔۔جو اس سال عالمی یوم خواتین کے موقع پرخود خواتین کے لئے ایک ’سرپرائز گفٹ‘ سے کم نہیں۔

’بسنتی ایکسپریس‘۔۔۔ کا تصور سوشل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس آر ڈی او) کے چیئرمین، ڈاکٹر عبدالقادر بلو کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جِن کے مطابق، بس سروس کا مقصد خواتین کو حراساں ہونے سے بچانا ہے۔

نئی بس سروس سے متعلق بتاتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقادر بلو کا کہنا ہے ’نئی بس سروس میں کنڈکٹر اور ڈرائیور بھی خواتین ہوں گی۔خواتین ڈرائیورز ابھی زیر تربیت ہیں اگلے دو ماہ میں ان کی تربیت بھی مکمل ہوجائے گی اور بس سروس بھی فعال بنادی جائے گی۔‘

عبدالقادر کے مطابق، نئی بس سروس کے لئے بسوں کی فراہمی ’ڈائیوو‘ نامی کمپنی ممکن بنائے گی اور اسے ’نیا جیون‘ نام کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے تعاون سے ممکن بنایا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے بسنتی ایکسپریس کے روٹ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ بس روزانہ سرجانی ٹاوٴن سے عبداللہ شاہ غازی، کلفٹن تک کا سفر طے کرے گی۔

’ایکسپریس ٹری بیون‘ کے مطابق، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کراچی میں منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر عبدالقادر کا کہنا تھا ’کراچی میں بسوں میں سفر کے دوران خواتین کو حراساں کرنے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان واقعات سے عوامی آگاہی ضروری ہے۔ لہذا، ’بسنتی ایکسپریس‘ شروع کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ایسے واقعات کو روکا جائے اور لوگوں میں ان سے متعلق شعور پوری طرح بیدار کیا جائے۔‘

سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے فائنل ائیر کی طلبہ عائشہ اجلال کہتی ہیں ’بسوں میں خواتین کو حراساں کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خواتین کے لئے مخصوص کمپارٹمنٹ پر مرد قابض ہوجاتے ہیں۔ بیشتر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ خواتین کو صرف ایک نشست تک محدود کردیا جاتا ہے۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ اس صورتحال میں لوگوں کی آگاہی ضروری ہے، تاکہ وہ خواتین کا احترام کر سکیں۔

محکمہٴٹریفک پولیس کی ایس ایس پی، معصومہ چنگیزی کے مطابق، ’پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کا سفر نہایت دقت طلب اور مصیبتوں سے بھرا ہے۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر کا نامناسب رویہ، مسافروں کے شرم سے عاری فقرے ۔۔ان سب چیزوں نے بسوں میں خواتین کے سفر کو انتہائی تلخ بنا دیا ہے۔ ایسے میں ’بسنتی ایکسپریس‘ بہت سے مسائل کا حل ہو سکتی ہے۔‘
XS
SM
MD
LG