رسائی کے لنکس

یورپی خطے باسک کے باغیوں نے ہتھیار ڈال دیے


ہتھیاروں کے مقامات کی فہرست ہفتے کو فرانس کے شہر بیون میں ہونے والی ایک تقریب میں فرانس کے عدالتی حکام کے حوالے کی گئی۔

یورپی حکام کے مطابق 1960ء کی دہائی سے اب تک 'ای ٹی اے' کی کارروائیوں میں 850 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

یورپ کے خطے باسک میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم 'ای ٹی اے' نے اپنے آخری ہتھیار بھی حکام کے حوالے کردیے ہیں جس کے بعد یورپ کی حالیہ تاریخ کی طویل ترین مسلح مزاحمت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی نگرانی کرنے والے 'انٹرنیشنل ویری فکیشن کمیشن' نے ہفتے کو تصدیق کی ہے کہ مسلح تنظیم نے ان 12 مقامات کی فہرست فرانسیسی حکام کے حوالے کردی ہے جہاں تنظیم کے زیرِ استعمال آخری ہتھیار ذخیرہ کیے گئے تھے۔

مذکورہ مقامات کی فہرست ہفتے کو فرانس کے جنوب مغربی شہر بیون میں ہونے والی ایک تقریب میں فرانس کے عدالتی حکام کے حوالے کی گئی۔

فرانسیسی حکام کے مطابق ہتھیاروں کے ان ذخیروں میں کم از کم 130 بندوقیں اور دو ٹن بارودی مواد شامل ہے۔

'ای ٹی اے' 1960 کے عشرے سے شمالی اسپین اور فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں باسک نسل کے افراد کی خود مختار ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کر رہی تھی۔

تنظیم کو امریکہ اور یورپ کے کئی ملکوں نے دہشت گرد قرار دے رکھا تھا۔ یورپی حکام کے مطابق 1960ء کی دہائی سے اب تک 'ای ٹی اے' کی کارروائیوں میں 850 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

گزشتہ 20 برسوں کے دوران اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں اور عوامی حمایت میں کمی آنے کے باعث 'ای ٹی اے' بتدریج کمزور ہوتی گئی جس کے بعد 2011ء میں تنظیم نے یک طرفہ جنگ بندی کرتے ہوئے سیاسی میدان میں سرگرم ہونے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم جنگ بندی کے باوجود تنظیم کے مسلح ارکان نے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے نہیں کیے تھے۔

اسپین کی حکومت نے باغیوں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے عمل پر تحفظات کا اظہار کرتےہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ تنظیم نے اپنے تمام ہتھیاروں کی فہرستیں حوالے نہ کی ہوں۔

اسپین کی حکومت 'ای ٹی اے' کےساتھ مذاکرات کی کوششوں اور اسے سیاست کرنے کی اجازت دینے کی تجویز کی بھی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ تنظیم کو مکمل طور پر تحلیل کردیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG