رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی نشریاتی ادارے کا ایم کیو ایم پر بھارت سے امداد لینے کا الزام


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت ایم کیو ایم کا مالی مددگار رہا ہے۔ اس حوالے سے، بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اور بھارتی حکام دونوں کو سوالات ارسال کئے تھے، مگر کسی بھی جانب سے ان کا جواب نہیں دیا گیا۔ ادھر، ایم کیو ایم نے اِس رپورٹ کو ’من گھڑت‘ قرار دیا ہے

برطانیہ کے نشریاتی ادارے، برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ کی دوسری بااثر جماعت، متحدہ قومی موومنٹ بھارت سے مالی امداد لیتی رہی ہے اور یہ کہ اس کے درجنوں کارکنوں کو بھارت میں تربیت بھی دی جاتی رہی ہے۔ تاہم، ایم کیو ایم نے اس دعوے کو ’بے بنیاد‘ اور ’میڈیا ٹرائل‘ قرار دے کر، مسترد کر دیا ہے۔

بدھ کی شام جاری ہونے والی اس رپورٹ کی بنیاد بی بی سی کی جانب سے ایم کیو ایم کے دو رہنماوٴں کا پولیس کو دیا گیا خفیہ بیان بتایا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت ایم کیو ایم کا مالی مددگار رہا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی نے ایم کیو ایم اور بھارتی حکام، دونوں کو سوالات ارسال کئے تھے، ’مگر کسی بھی جانب سے ان کا جواب نہیں دیا گیا‘۔

رپورٹ میں بی بی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’گزشتہ ایک عشرے کے دوران، ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو بھارت میں تربیت دی گئی‘۔

بی بی سی کے مطابق، برطانوی پولیس نے 2013ء میں پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے گھر پر چھاپا مارا تھا، جس کے نتیجے میں، وہاں سے دھماکا خیز مواد اور اسلحے کی ایک فہرست بھی ملی تھی۔ یہ اسلحہ ممکنہ طور پر کراچی میں استعمال ہونا تھا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے اِس رپورٹ کو ’من گھڑت‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر، ایم کیو ایم مخالف جماعتوں کی جانب سے نئے نئے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے، ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما، واسع جلیل نے کہا ہے کہ ’پارٹی پر 1992ء سے اس طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں‘۔

واسع جلیل کے مطابق، ’یہ رپورٹ من گھڑت اور محض ایک ٹیبل اسٹوری ہے‘۔

علاوہ ازیں، ایم کیو ایم کے سینیٹر، محمد علی سیف نے بھی ان الزامات اور دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG