رسائی کے لنکس

logo-print

عوامی لیگ تیسری بار حکومت تشکیل دے رہی ہے، مخالفیں کا ووٹنگ میں دھاندلی کا الزام


ایسے میں جب بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ لگاتار ریکارڈ تیسری بار حکومت تشکیل دینے کی تیاری کر رہی ہیں، گذشتہ اتوار کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں اُن کی جماعت کی واضح اکثریت کے خلاف تشدد اور ووٹوں میں دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

ووٹنگ میں اور ووٹروں کے ساتھ بے ضابطگیوں کے الزامات آرہے ہیں جب کہ ساتھ یہ اطلاعات ہیں کہ حکمراں جماعت کے حامیوں نے مخالف جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو ووٹنگ مراکز میں داخل ہونے سے روکا۔ اپوزیشن کے سب سے بڑے اتحاد، ’جاتیہ اوئیکہ محاذ‘ نے اتوار کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

’جاتیہ اوئیکہ محاذ‘ کے سربراہ، کمال حسین نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ’’ووٹ چرائے گئے‘‘ ہیں۔

حسین کے بقول، ’’ہم جھوٹے انتخاب کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں، اور ایک غیرجانبدار حکومت کی نگرانی میں نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔

تاہم، انتخابی ادارے نے ووٹوں کی دھاندلی کا الزام مسترد کیا اور کہا ہے کہ اتوار کی پولنگ درست تھی۔

بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر، نورالہدا نے کہا ہے کہ ’’ملک بھر میں پُرامن ماحول میں لوگوں کی بڑی تعداد نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 30 دسمبر کے انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت تشکیل پا رہی ہے۔۔۔ نہیں۔ ہم ابھی نیا الیکشن نہیں کرا سکتے۔ کسی صورت میں ایسا نہیں ہو سکتا‘‘۔

اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 300 پارلیمانی نشستوں میں سے عوامی لیگ اور اُس کے اتحادیوں نے 288 سیٹیں جیتی ہیں۔ انتخابی کمیشن نے کہا ہے کہ حکمراں جماعت حکومت تشکیل دے گی۔ حزب ٕمخالف کے اہم اتحاد، ’جاتیہ اوئیکہ محاذ‘ نے چھ نشستیں جیتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG