رسائی کے لنکس

logo-print

ڈھاکہ: دہشت گردی کی راہ ترک کرنےوالوں کو انعام کی پیش کش


حکیم اور محمود الحسن اُن پہلے افراد میں شامل ہیں جنھیں ایک نئے منصوبے کے تحت انعام میں رقم دی گئی، تاکہ دوسرےشدت پسندوں کو ترغیب دی جاسکے کہ وہ اسلحہ چھوڑ کر اپنی قدامت پسند سوچ پر نادم ہوں اور اُسے ترک کریں

حکومت ِبنگلہ دیش کی جانب سے اصلاح پر آمادہ شدت پسندوں کو نقدی کی پیش کش کے بعد، حکام نے بتایا ہے کہ بدنام دہشت گرد گروپ سے تعلق رکھنے والے دو ارکان ہتھیار ڈال کر حکام کے سامنے پیش ہوگئے ہیں۔

عبد الحکیم نے کہا ہے کہ ’’ہم نے ایک تاریک راہ اپنائی تھی‘‘۔ یہ اُن شدت پسندوں میں شامل تھے جنھوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
اُنھوں نے گذشتہ ہفتے ایک سرکاری تقریب کے دوران قومی ٹیلی ویژن کے ناظرین کو یہ بات کہی، جہاں اُنھوں نے ایک سرکاری اہل کار سے چیک وصول کیا۔

حکیم کی عمر 22 برس ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’ہم نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے۔ ہم دہشت گردی میں ایمان نہیں رکھتے۔ جو بھی اس راہ پر چل پڑا ہے اُسے واپس آنا چاہیئے‘‘۔

حکیم اور محمود الحسن بجوائے اُن پہلے افراد میں شامل ہیں جنھیں ایک نئے منصوبے کے تحت رقم دی گئی، تاکہ دوسرےشدت پسندوں کو ترغیب دی جاسکے کہ وہ اسلحہ چھوڑ کر اپنی قدامت پسند سوچ پر نادم ہوں اور اُسے ترک کریں۔

ہتھیار ڈالنے والوں کو اِس کے عوض مالی اور قانونی اعانت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ خوبی کے ساتھ پھر سے معاشرے کا کارگر جُزو بنیں، جس میں اُن کی مدد کی جائے گی۔

حکومت نے اِن دو افراد میں سے ہر ایک کو 500000 ٹکا (تقریباً 6350 ڈالر) کی رقم حوالے کی، جو بوگرہ کے شمالی شہر کی ایک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان نئی ’جے ایم بی‘ کے ایک دھڑے میں شامل تھے، جو داعش سے منسلک ہے اور ’جماعت المجاہدین‘ سے علیحدہ ہونے والے دھڑے کا حصہ ہے، جنھیں بنگلہ دیش میں چوٹی کی دہشت گرد تنظیمیں شمار کرتا ہے۔

تیئیس برس کے محمود الحسن نے قوم سے معافی طلب کی۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’میں اِس راہ کو چھوڑ چکا ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا ہے اُس پر، برائے کرم، مجھے معاف کردیں، اور دعا کریں کہ میں ملک کے لیے کام آ سکوں‘‘۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال نے پیر کے روز کہا کہ دونوں افراد ’’ابھی تک پولیس کی حراست میں ہیں، جن پر مقدمہ چلے گا۔ اُن کی قسمت کا فیصلہ عدالت کرے گی، جو اِس بات کا تعین کرے گی آیا اُن سے کیا جرم سرزد ہوئے ہیں‘‘۔

ایسے میں جب سرکاری حکام نے وضاحت نہیں کی، اُنھوں نے اتنا کہا ہے کہ اِن افراد کو بحالی کے پروگرام کی پیش کش ہوگی، تاکہ وہ راہِ راست پر قائم رہیں۔

بنگلہ دیش کو داخلی طور پر کئی طرح کے شدت پسندوں اور انتہا پسند گروہوں سے خطرات لاحق ہیں۔ حالیہ ماہ کے دوران ہونے والے دہشت گرد حملوں میں کم از کم 70 بنگلہ دیشی اور کچھ غیر ملکی ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG