رسائی کے لنکس

برطانیہ کا مشہور زمانه کلاک بگ بین کی گھنٹیوں کی آواز اگلے ہفتے سے بند ہو جائے گی اور یہ مانوس آواز آپ دوبارہ سن سکیں گے چار سال کے بعد۔

برطانیہ میں وقت کی شناخت ہے بگ بین کلاک جو لندن میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب ایک ٹاور پر نصب ہے۔ 2012 میں ملکہ الزبتھ کی ڈائمند جوبلی کے موقع پر اس ٹاور کا نام سینٹ سٹیفن ٹاور سے بدل کر الزبتھ ٹاور کر دیا گیا تھا۔

بگ بین کا ٹاور 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا اور تب سے اس کلاک کی ٹک ٹک وقت اور زمانے گذرنے کا إحساس زندہ رکھے ہوئے ہے۔

حال ہی میں ٹائم کیپر سٹیو جاگز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قدیم ٹاور کے تحفظ کے اہم پراجیکٹ کے دوران کے بگ بین کی خاموشی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد الزبتھ ٹاور، اور کلاک کو محفوظ بنانا اور اسے طویل عرصے تک انہیں کار آمد رکھنا ہے۔

بگ بین کی اس خاموشی کو دنیا بھر میں محسوس کیا جائے گا کیونکہ صرف لندن ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں وہ بے شمار لوگ جو بی بی سی کی ریڈیو اور ٹیلی وژن نشریات سنتے اور دیکھتے ہیں، اس کی آواز سے مانوس ہیں، کیونکہ یہ نشریات ادارہ 1924 سے باقاعدگی کے ساتھ بگ بین کی گھنٹوں کو ٹائم سگنل کے طور پر نشر رہا ہے۔

ٹاور پر کلاک نصب کیے جانے کے 157 سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسے تقریباً چار سال کے لیے خاموش ہونا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس سے پہلے بھی 1972 اور 2007 میں اس کی گھنٹیوں کی آواز کو مرمت اور صفائی کی غرض سے محدود عرصے کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔

اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے دوران 1939 سے1945 کی مدت میں حفاظتی مقاصد کے لیے اس کی روشنیاں بچھا دی گئیں تھیں اور گھنٹیوں کی آواز کو بھی بند کر دیا گیا تھا تاکہ ہوائی حملے کے خطرے کے الارم واضح طور پر سنائی دیں۔

اس عظیم کلاک کا وزن پونے چودہ ٹن ہے اور وہ ہر گھنٹے کے بعد وقت کا اعلان ایک گونج دار آواز کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر پندرہ منٹ کے بعد کلاک سے سریلی گھنٹیوں کی آواز نکلتی ہے۔

ٹائم کیپر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 157 سال کے بعد بگ بن 21 اگست کو دوپہر 12 بجے کا اعلان اپنی مخصوص گھنٹیوں کے ساتھ کرنے کے بعدکئی برسوں کے لیے خاموش ہو جائے گا۔

اب کچھ بات ہو جائے الزبتھ ٹاور کی، جس کی چوٹی پر یہ کلاک نصب ہے۔

اس ٹاور کی اونچائی 96 میٹر یعنی 315 فٹ ہے۔ یہ غالباً برطانیہ کی وہ عمارت ہے جس کی سب سے زیادہ تصویریں اتاری گئی ہیں۔ برطانیہ کا سیاحت کو جانے والا ہر شخص اسے دیکھنے اور وہاں اپنی تصویر کھینچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

بگ بین کلاک کا رقبہ 40 مربع میٹر ہے۔ اور جس دائرے میں سوئیاں حرکت کرتی ہیں اس کا قطر 23 فٹ ہے۔ اس کی منٹ بتانے والی سوئی کی لمبائی 14 فٹ اور گھنٹے بتانے والی سوئی کی لمبائی 9 فٹ ہے۔

بگ بین کی تنصيب 10 اپریل 1858 میں شروع ہوئی تھی اور اس نے 13 مئی 1859 میں اس نے باقاعدہ وقت بتانا شروع کر دیا۔ اور 11 جولائی 1859 وہ دن تھا جب بگ بن کی گھنٹیاں بھی بجنا شروع ہو گئیں۔

مرمت کے دور ٹاور پر چاروں جانب لگے ہوئے کلاک کے ڈائل اور اس کی گراریاں اتار لی جائیں گی اور صفائی اور مرمت کے بعد انہیں دوبارہ لگا دیا جائے گا۔

اس چار سالہ پراجیکٹ پر اخراجات کا اندازہ تین کروڑ 77 لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے۔

اگرچہ ٹاور کی مرمت اور تزئین و آرائش کے دوران بگ بن کی آواز سنائی نہیں دے گی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ رک جائے گا۔ وقت بھلا کسی کے روکے رکتا ہے؟ آپ بگ بن کی گھنٹیوں کی آواز تو نہیں سن سکیں گے لیکن وہ خاموشی سے آپ کو وقت بتاتا رہے گا۔ اور ہاں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اہم تقریبات پر، مثلاً سال نو کے جشن کے موقع پر بگ بین کی گھنٹیاں اس تقریب کے لیے پھر سے زندہ ہو جائیں گی۔

چونکہ کلاک کی مشینری صفائی اور مرمت کے لیے باہر نکال لی جائے گی، لیکن اس کی وقت بتانے والی سوئیاں بدستور چلتی رہی ہیں اور معمول کے مطابق وقت بتاتی رہیں گی۔ انہیں حرکت میں رکھنے کے لیے ایک خاص قسم کی الیکٹرک موٹر استعمال کی جائے گی۔

یہ امر بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ چار سالہ مدت کے دوران، جب ٹاور اور کلاک مرمت اور تزئین وآرائش کے مراحل سے گذر رہا ہو گا، اس کی سوئیاں نمایاں طور پر نظر آتی رہیں گی اور لوگ حسب معمول اسے دیکھ کر اپنی گھڑیوں کا وقت درست کرتے رہیں گے۔ بگ بین کے وقت کی درستگی کے لیے اسے باقاعدگی کے ساتھ برطانیہ کے رصدگاہ ’رائل گرین وچ آبزرویٹری‘ کے ساتھ وقت سے ملایا جاتا ہے۔

اور ہاں الزبتھ ٹاور پر چڑھ کر بگ بین کلاک کو اس کے اندر سے دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے سرکاری اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ بگ بین دیکھنے کی خواہش رکھنے والوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ نمبر آنے میں کم ازکم چھ مہینے لگ جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG