رسائی کے لنکس

logo-print

عوام بیلجئم کی تقسیم کے لئے تیار ہو جائیں:سیاسی رہنما


بیلجئم میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے حکومت سازی کے لئے جاری مذاکرات ختم کرنے کے بعد پارٹی کےرہنما نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ملک کی تقسیم کے لئے تیار ہو جائیں۔

بیلجئم میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے حکومت سازی کے لئے جاری مذاکرات ختم کرنے کے بعد پارٹی کےرہنما نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ملک کی تقسیم کے لئے تیار ہو جائیں۔

فرینکوفون سوشلسٹ پارٹی کے لوریٹ آنکلنکس نے ایک اخباری بیان میں بیلجئم کی عوام کو ملک کے بٹوارے کے لئے تیار رہنے کو کہا ہے۔ یہ بیان دو روز قبل پارٹی کے سربراہ ایلیو دی رپو کے نئی حکومت بنانے کے لئے ڈچ زبان بولنے والے فلیمش رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات جاری نہ رکھنے کے فیصلے کے بعد آیا ہے۔

پچھلے ایک سال سے بیلجئم میں حکومتی نظام تقریباً منتشر ہوکر رہ گیا ہے ۔ ملک کے شمالی علاقوں کی سیاسی جماعتوں کا نمائیندہ اتحاد نیوفلیمش آلائینس ملک کو دو حصوٕں میں تقسیم کرنے پر زور دے رہا ہے اور ملک کے جنوب میں فرانسیسی بولنے والے علاقے ویلونیا کو خدشہ ہے کہ تقسیم کی صورت میں ان کے اقتصادی مسائل مذید بڑھ جائیں گے ۔

بیلجئم کے بادشاہ البرٹ نے ملک کے تمام سیاسی رہنماؤں اور دونوں رسیاستوں کی پارلیمانوں سے کہا ہے کہ وہ کسی قسم کی مرکزی حکومت بنانے کے لئے ایک بار پھر بات چیت شروع کریں۔

گزشتہ اپریل میں فلیمش اور ڈچ بولنے والے ایک علاقے میں ووٹوں کے تنازعے کے بعدبیلجئم میں حکومت تحلیل ہو گئی تھی اور پھر جون میں پارلیمانی انتخابات سے بھی یہ تنازعہ حل نہیں ہو سکا تھا۔ پچھلے تین سال میں بیلجئم میں چار حکومتیں آچکی ہیں۔

ان انتخابات میں علیحدگی پسند جماعت نیوفلیمش آلائینس نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 27نشستیں حاصل کیس جب کہ جنوب میں فرانسیسی بولنے والےعلاقوٕ ں میں فرینکوفون سوشلسٹ پارٹی 26نشستیں حاصل کر سکی۔ ملک کے نگراں وزیراعظم کی جماعت کرشچن ڈیموکریٹس 17سیٹیں لے کر 150اراکین پر مشتعمل قانون ساز اسمبلی میں تیسرے نمبر پر رہی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے ،تقسیم سے بچانے اور ایک مستحکم حکومت کے لئے کم از کم آٹھ سیاسی جماعتوں کو اتحا د کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG