رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس حملے، مشتبہ حملہ آور کے فنگر پرنٹ حاصل: استغاثہ


بیلجئم کے وفاقی دفترِ استغاثہ نے کہا ہے کہ تفتیش کاروں نے صلاح عبد السلام کے فنگر پرنٹ کے ساتھ ساتھ ہاتھوں سے بُنے گئے بیلٹ برآمد کر لیے ہیں جنھیں ہو سکتا ہے کہ آتشیں مواد باندھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔ یہ برآمدگی گذشتہ ماہ کی تلاش کے دوران ہوئی تھی

بیلجئم کی پولیس نے جمعے کو انکشاف کیا ہےکہ برسلز کے ایک اپارٹمنٹ کی تلاش کے دوران، 13 نومبر کو پیرس کے حملے میں ملوث روپوش دہشت گرد کے فنگر پرنٹ حاصل کر لیے گئے ہیں۔

بیلجئم کے وفاقی دفترِ استغاثہ نے کہا ہے کہ تفتیش کاروں نے صلاح عبد السلام کے فنگر پرنٹ کے ساتھ ساتھ ہاتھوں سے بُنے گئے بیلٹ برآمد کر لیے ہیں جنھیں ہو سکتا ہے کہ آتشیں مواد باندھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔ یہ برآمدگی گذشتہ ماہ کی تلاش کے دوران ہوئی۔ اُنھیں اس رہائش گاہ کے اندر سے آتشیں مواد کے کچھ ممکنہ نشانات کا بھی پتا چلا ہے۔

دفتر استغاثہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں آیا عبدالسلام اس اپارٹمنٹ میں آئے تھے یا نہیں، اور اس بات کی وضاحت نہیں کی آیا اہل کاروں نے اس برآمدگی کا انکشاف ایک ماہ کی تاخیر سے کیوں کیا۔

ایک بیان میں، دفتر استغاثہ نے بتایا ہے کہ اپارٹمنٹ جس کی 10 دسمبر کو تلاشی لی گئی، اُسے جھوٹے نام پر کرائے پر حاصل کیا گیا تھا؛ جہاں پیرس حملوں سے قبل بیلجئم میں گرفتار کیا گیا 10 میں سے ایک مشتبہ شخص نے یہاں رہائش اختیار کی تھی۔

استغاثہ نے کہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ حملوں کے بعد عبدالسلام اس اپارٹمنٹ میں چھپا ہوا تھا، یا پھر اس رہائش گاہ کو آتشیں مواد کی تیاری کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔

پیرس حملوں کے بعد، پولیس عبد السلام کی تلاش کرتی رہی ہے، جن میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ مشتبہ فرد کے ساتھیوں نے اُنھیں پیرس سے برسلز پہنچایا، جب کہ تین پولیس چوکیوں پر اُن کی شناخت نہیں ہو پائی۔

XS
SM
MD
LG