رسائی کے لنکس

logo-print

بن غازی حملے سے بچا جا سکتا تھا: سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی


بدھ کے روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کمیٹی نے اِس ناکامی کا ذمہ دار محکمہٴ خارجہ اور انٹیلی جنس برادری کو ٹھہرایا ہے، جنھوں نے اُس علاقے میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی میں اضافہ لانے کا خاطرخواہ بندوبست نہیں کیا

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کا کہنا ہے کہ 2012ء میں لیبیا کے شہر بن غاری میں، امریکی سفارت خانے کے احاطے میں ہونے والے مہلک حملے سے ’بچا جا سکتا تھا‘۔

بدھ کے روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کمیٹی نے اِس ناکامی کا ذمہ دار محکمہٴ خارجہ اور انٹیلی جنس برادری کو ٹھہرایا ہے، جنھوں نے اُس علاقے میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی میں اضافہ لانے کا خاطرخواہ بندوبست نہیں کیا۔

اِس میں کہا گیا ہے کہ باوجود یہ کہ سلامتی کی صورتِ حال میں ’واضح بگاڑ‘ آتا جا رہا تھا اور سکیورٹی کے اضافی وسائل کی فراہمی کی درخواست کی گئی تھی، محکمہٴ خارجہ بہتری کے لیے چند ہی مختصر اقدام کر پایا۔

اِس دہشت گرد حملے میں چار امریکی ہلاک ہوئے، جس میں لیبیا میں امریکی سفیر کِرسٹوفر اسٹیوینز شامل تھے۔ محکمہٴخارجہ کی طرف سے کوئی فوری بیان جاری نہیں ہوا۔

ایوان کے دونوں اطراف سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کی طرف سے تیارہ کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بن غازی حملے کا شکار ہونے والے افراد کی امداد کے لیے امریکی فوج کو تعینات نہیں کیا گیا تھا۔

تاہم، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقی کمان کے سربراہ نے فوج کے سکیورٹی دستے روانہ کرنے کی پیش کش کی تھی، جسے سفیر اسٹیونز نے اس دہشت گرد حملے سے کچھ ہی ہفتے قبل مسترد کر دیا تھا۔

اِس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی تجزیہ کاروں نے پالیسی سازوں اور عوام کو ابتدائی مرحلے میں تشدد کا ذمہ دار احتجاج کرنے والوں کو بتا کر بدحواس کیا، جب کہ اُن کے پاس اِس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ضروری انٹیلی جنس موجود نہیں تھی۔
XS
SM
MD
LG