رسائی کے لنکس

logo-print

برنی سینڈرز دستبردار، صدارتی انتخاب میں بائیڈن کا مقابلہ ٹرمپ سے ہو گا


Bernie Sanders

امریکی ریاست ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز نے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی مہم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں سابق نائب صدر جو بائیڈن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کریں گے۔

برنی سیںڈرز نے بدھ کی صبح اپنے کارکنوں کو اس بات سے مطلع کیا کہ وہ انتخابی مہم ختم کر رہے ہیں۔

انھوں نے انٹرنیٹ پر پیغام میں کہا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ انھیں نوجوانوں اور ورکنگ کلاس کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن، جو بائیڈن سے ان کے ڈیلیگیٹس کا فرق اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ ان کی کامیابی ممکن نہیں رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ محض انتخابی مہم نہیں تھی بلکہ معاشی عدم توازن کے خلاف ایک تحریک ہے۔ اس جدوجہد کو جاری رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ بائیڈن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں جو بہت نفیس آدمی ہیں۔ وہ ان کے ساتھ گزشتہ کچھ دنوں سے رابطے میں تھے اور آئندہ بھی مل کر کام کریں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' نے 19 مارچ کو خبر دی تھی کہ برنی سینڈرز اگلے تین ہفتوں میں اپنے ساتھیوں سے مشورے کے بعد مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ لیکن تب ہی سینڈرز کے ایک معاون نے تصدیق کردی تھی کہ مہم روک دی گئی ہے، انٹرنیٹ پر اشتہارات بند کردیے گئے ہیں اور ٹی وی اشتہارات بھی بک نہیں کرائے جارہے۔ حامیوں سے چندے کی اپیلیں بھی نہیں کی جارہی تھیں۔

فروری میں پہلی تین ریاستوں آئیووا، نیو ہیمپشائر اور نیواڈا میں ہوئے پرائمری انتخابات میں برنی سینڈرز نے بہترین کارکردگی پیش کی تھی جبکہ جو بائیڈن ابتدا میں زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرسکے تھے۔

لیکن، جنوبی کیرولائنا میں انتخاب سے بازی پلٹنا شروع ہوئی اور سپر ٹیوزڈے پر برنی سینڈرز کی امیدوں کے برعکس نتائج آئے۔ بعد میں جیسے جیسے دوسرے امیدوار میدان چھوڑتے گئے، بائیڈن کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔

سترہ مارچ کو فلوریڈا، الی نوئے اور ایری زونا، تینوں کی پرائمریز میں ناکامی سینڈرز کے لیے نوشتہ دیوار ثابت ہوئی تھی۔ اس وقت تک بائیڈن کو سینڈرز پر 300 ڈیلیگیٹس کی برتری حاصل ہوچکی تھی۔

برنی سینڈرز نے 2016 میں بھی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے مہم چلائی تھی لیکن وہ آخری مرحلے میں ہلیری کلنٹن سے شکست کھا گئے تھے۔ بعد میں ہلیری کلنٹن صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ہار گئی تھیں۔

برنی سینڈرز سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن نہیں ہیں لیکن وہ بیشتر معاملات پر اس کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ انھیں انتہائی بائیں بازو کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اور معاشی عدم توازن پر سخت موقف کی وجہ سے ان کے ناقدین انھیں سوشلسٹ قرار دیتے ہیں۔ ان کے میڈیکل فور آل یعنی سب کے لیے مساوی طبی سہولتوں کے نعرے کو بہت پذیرائی ملی۔

رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ برنی سینڈرز نے ملک میں نوجوانوں کی اکثریت میں مقبول ہیں لیکن دیگر حلقوں میں انھیں ووٹ بینک بنانے میں مشکلات کا سامنا رہا اور خاص طور پر افریقی امریکی ووٹرز نے ان کے بجائے جو بائیڈن کا ساتھ دیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سابق صدر بارک اوباما نے بائیڈن کی حمایت کی ہے۔

برنی سینڈرز اب اپنی ریاست ورمونٹ میں وقت گزاریں گے جبکہ جو بائیڈن نے اپنی ریاست ڈیلاوئیر میں انتخابی مہم کا ہیڈکوارٹر قائم کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG