رسائی کے لنکس

logo-print

بڈھا کس کو بولا؟


Nobel Prize Literature

برصغیر کے معاشروں میں عموماً چالیس سال کے افراد زیادہ سنجیدہ رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ پچاس سال کی عمر کو بزرگی میں شمار کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ بال رنگنا چھوڑ دیتے ہیں اور داڑھی بڑھا لیتے ہیں۔ عبادات میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ سرکاری طور پر ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال مقرر ہے۔ اسے کام کی زندگی کا اختتام سمجھا جاتا ہے۔ اچھے خاصے تندرست لوگ بھی کام کاج چھوڑ دیتے ہیں۔ اس عمر کے لوگ پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کی دیکھ بھال میں دل لگاتے ہیں۔

مغربی معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا۔ امریکہ کے بیشتر اداروں میں ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر مقرر نہیں۔ اگر آپ کام کر سکتے ہیں تو 90 سال کی عمر میں بھی ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں۔ جو لوگ ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں، وہ کاروبار شروع کر دیتے ہیں یا سیاحت پر نکل جاتے ہیں۔ گھر بیٹھنا کوئی پسند نہیں کرتا۔

اب طب سے متعلق ایک جریدے نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے زیادہ تخلیقی دور ساٹھ سے ستر سال کی عمر میں ہوتا ہے۔ ستر سے اسی سال کی عمر دوسرا اور پچاس سے ساٹھ سال کی عمر تیسرا بہترین دور ہوتا ہے۔

امریکہ میں وسیع پیمانے پر کی گئی اس تحقیق کے نتائج نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع کیے گئے ہیں۔

ماہرین نے مثالیں پیش کی ہیں کہ نوبیل انعام حاصل کرنے والوں کی اوسط عمر 62 سال ہے۔ 500 بہترین اداروں کے سربراہوں کی اوسط عمر 63 سال ہے۔ امریکہ کے 100 بڑے گرجا گھروں کے پادریوں کی اوسط عمر 71 سال ہے۔ پوپ کی اوسط عمر 76 سال ہے۔

زندگی کا یہی وہ حصہ ہوتا ہے جب انسان اپنے تجربے کو کام میں لاکر کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ مزاج ٹھنڈا اور نرم ہو چکا ہوتا ہے۔ دانش کی وجہ سے درست فیصلے کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ تعلقات میں بگاڑ کا امکان گھٹ جاتا ہے۔ قائدانہ صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

گویا قدرت نے انسان کے اعلیٰ ترین کام کرنے کی عمر 60 سے 80 سال مقرر کی ہے۔ لیکن، پاکستان اور بھارت سمیت بہت سے ملکوں میں لوگ یہ عمر کچھ نہ کرکے ضائع کر دیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG