رسائی کے لنکس

logo-print

پندرہ ہزار روپے اور موبائل کی شرط نے نوجوان کی جان لے لی


علی ابرار

علی رانا

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے قریبی کے علاقے کوہالہ میں تیر کر دریائے جہلم عبور کرنے کی شرط نے نوجوان کی جان لے لی، واقعہ کا ویڈیوکلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

پولیس کے مطابق گجرات سے سیاحت کے لیے چھ دوست کوہالہ پل پر پہنچے اور دریا کے قریب نہاتے رہے، اس دوران دوستوں میں شرط لگی کہ کون تیر کر دریا کو عبور کرسکتا ہے۔ دوستوں کے اکسانے پر 19 سالہ علی ابرار نے دریا میں چھلانگ لگا دی، اور دریا عبور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ پار نہ کرسکا اور پانی کی تیز لہروں میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

ایک روز گزرنے کے بعد بھی اب تک علی ابرار کی لاش نے مل سکی۔

پولیس تھانہ بکوٹ نے علی ابرار کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے پانچوں دوستوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

علی ابرار سے شرط لگانے والے دوست پولیس کی تحویل میں
علی ابرار سے شرط لگانے والے دوست پولیس کی تحویل میں

ڈی ایس پی تھانہ بکوٹ محمد جمیل نے وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر گفت گو کرتے ہوئے اس واقعہ کی تصدیق کی اور کہا کہ پانچوں ساتھیوں کو گرفتار کرکے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو ثبوت کے بعد پانچوں دوستوں نے بھی شرط لگا کر دریا عبور کرنے کے واقعہ کی تصدیق کردی ہے۔ تاہم علی ابرار کی لاش کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے لاش کی تلاش میں دشواری کا سامنا ہے۔

پاکستان میں چند روپوں یا کسی چھوٹے سے فائدے کے لیے شرط لگا کر زندگی کو داؤ پر لگا دینے کے واقعات اکثر سامنے آتے ہیں ۔ یہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا جس میں پندرہ ہزار روپے اور موبائل فون کی خاطر ایک نوجوان اپنی جان گنوا بیٹھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG