رسائی کے لنکس

logo-print

'امن معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ طویل اور کٹھن ہو سکتا ہے'


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا افغانستان کے مسئلے کا صرف ایک چوتھائی حل ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ اور طالبان کے درمیان 2018 میں شروع ہونے والے امن مذاکرات کے نتیجے میں رواں ماہ کے آخر میں امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد بین الافغان امن مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو گا۔ تاہم تجزبہ کاروں کے خیال میں یہ ایک طویل اور پیچیدہ معاملہ ہو گا۔

اگرچہ افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا امکان ماضی میں کبھی بھی ممکن نہیں رہا ہے جتنا اب ہے۔ لیکن اس کا انحصار آئندہ ماہ شروع ہونے والے بین الافغان مذکرات پر ہو گا جس کا باضابطہ طریقہ کار اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے بعد افغان تنازع کا حل ممکن ہو سکے گا۔

تاہم سینئر صحافی سمیع یوسف زئی وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالیہ پیش رفت افغان تنازع کے حل کی طرف پیش قدمی ہے لیکن امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا افغانستان کے مسئلے کا صرف ایک چوتھائی حل ہے جب کہ بقیہ 75 فی صد حل بین الافغان مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

سمیع یوسف زئی کے بقول، "امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشکل اور پیچیدہ مرحلہ اب بھی باقی ہے۔ جب افغان حکومت، طالبان اور دیگر افغان دھڑوں کے درمیان بات چیت شروع ہوگی۔

سمیع یوسف زئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کس حد تک ایک دوسرے کے مؤقف کو قبول کرنے کی غرض سے لچک کا مظاہرہ کریں گے؟ طالبان افغانستان کے موجودہ آئین کے تحت وضح ہونے والے سیاسی نظام کو مانیں گے یا طالبان ایک اسلامی حکومت پر اصرار کریں گے؟ جس کی ہیت کے بارے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان وجہ تنازع بن سکتی ہے۔

طالبان کون سا سیاسی سیٹ اپ چاہتے ہیں؟

دوسری طرف ایک اور تجزیہ کار و ماہر افغان امور زاہد حسین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت میں شامل بعض حلقے کبھی بھی طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے حامی نہیں تھے۔ اُن کا رویہ منفی ہی رہے گا لیکن اس کے مقابلے میں طالبان متحد ہیں۔

زاہد حسین کے بقول، طالبان کی جانب سے اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ طے پانے کے بعد افغانستان میں وہ کس طرح کا سیاسی سیٹ اپ چاہتے ہیں۔

اگرچہ صدر اشرف غنی یہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ بات چیت ان کی حکومت کی قیادت میں ہونی چاہیے اور اس کے لیے تمام افغان دھڑوں پر مشتمل ایک مذاکراتی وفد تشکیل دیں گے۔

تاہم افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اشرف غنی کے صدارتی انتخابات میں جیت کے اعلان کو ان کے سیاسی حریفوں بشمول عبداللہ عبداللہ اور طالبان نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اُن کے بقول، "اس وقت خدشہ ہے کہ اگر یہی صورتِ حال جاری رہی تو یہ طالبان مخالف حلقوں میں ایک نسلی تقسیم کا باعث بنے گی جس کی وجہ سے بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ مشکل ہو جائے گا۔"

اشرف غنی کے بڑے حریف عبداللہ عبداللہ اور طالبان نے اشرف غنی کی کامیابی کو مسترد کرتے ہوئے ایک متوازی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے سے قبل سات روز کے لیے آزمائشی جنگ بندی پر عمل کرنا ضروری ہے۔

'انخلا کے دوران امریکی فورسز پر حملے نہیں ہوں گے'

سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ اس آزمائشی جنگ بندی یا تشدد میں کمی کے دورانیے کے بعد بھی یہی صورتِ حال برقرار رہے گی اور امریکی فورسز، افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان دفاعی پوزیشن میں رہیں گے۔

اُن کے بقول امریکی فورسز کے انخلا کے عمل کے دوران اُن پر کوئی حملے نہیں ہوں گے اور بین الافغان امن مذاکرات کے لیے اعتماد کی فضا ساز گار ہو سکتی ہے۔

ادھر تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ شاید طالبان بین الافغان مذکرات کے دوران جنگ بندی پر تیار نہ ہوں۔ فی الحال انہوں نے صرف امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے تحت محدود کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کا کردار

پاکستان نے امریکہ، طالبان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کے بقول پاکستان سے یہ توقع ہو گی کہ وہ افغانوں کے درمیان بات چیت میں بھی اسی طرح کا کردار ادا کرے۔

رحیم اللہ کے مطابق پاکستان کو بین الافغان مذاکرات میں محتاط انداز میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ افغانوں کا باہمی معاملہ ہے ورنہ پاکستان پر الزام لگ سکتا ہے کہ وہ افغانستان کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف رہا کہ افغانستان کے اندرونی سیاسی معاملات کو حل کرنا افغانوں کی اپنی ذمہ داری ہے۔ تاہم یہ کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہے۔ امریکہ اور چین سمیت خطے کے دیگر ممالک مل کر یہ معاملات طے کر سکتے ہیں۔

سمیع یوسف زئی کے مطابق پاکستان کو افغانستان میں امن و مصالحت میں مثبت اور غیر جانبدارانہ رہنا ہو گا۔ اُن کے بقول پاکستان بین الافغان مذاکرات کے دوران ایک وسیع مفاہمت کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔

زاہد حسین کے بقول اگرچہ پاکستان طالبان کو امریکہ کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ بھی طے پارہا ہے لیکن بین الافغان مذاکرات میں پاکستان کا کردار زیادہ نہیں ہوگا کیونکہ افغانوں نے یہ معاملات خود طے کرنا ہیں۔

اُن کے بقول اگرچہ طالبان بین الافغان مذاکرات پر تیار ہیں لیکن پاکستان کے لیے مختلف افغان دھڑوں کے درمیان سمجھوتہ کرانا ممکن نہیں۔ امریکہ کا کردار ضروری ہے کیونکہ واشنگٹن کا کابل حکومت پر اثر و رسوخ ہے۔

افغانستان کی تعمیر نو

تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد افغان تنازع کا سیاسی حل ناممکن نہیں ہے۔ بڑی قوتیں جو افغانستان کی امداد کرتی ہیں وہ مختلف افغان قوتوں کو مجبور کرسکتی ہیں کہ وہ افغانستان کی خاطر صلح کریں اور جنگ کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔

رحیم اللہ کے بقول، "اس سلسلے میں طریقے سے کوشش کرنا ہوگی۔ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امداد اس طریقے سے استعمال کرنا ہو گی کہ اس سے امن کے مقاصد حاصل ہو سکیں۔"

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد امریکہ اور اس کے افغانستان میں اتحادی ممالک کی افغانستان میں دلچسپی بھی کم ہو سکتی ہے۔ جسے برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ افغانستان کو اندرونی مسائل سے نمٹنے کے اب بھی امداد کی ضرورت ہے۔

رحیم اللہ کے بقول، وہ امیر ممالک جن کا افغانستان اور خطے میں مفاد ہے، وہ افغانستان کی تعمیر نو اور اس کی فوج اور دیگر اداروں کے لیے آئندہ بھی کچھ عرصے کے لیے مدد دیتے رہیں۔ وہ امداد کو نا تو مکمل طور پر ختم کریں اور نا ہی اس میں زیادہ کمی کریں تاکہ وہاں نئے مسائل پیدا نا ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG