رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس بھوٹان پہنچ گیا، سیاحوں کے داخلے پر پابندی


بھوٹان کے دارلحکومت کے اسپتال میں ڈاکٹر ایک مریض کا معائنہ کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

بھوٹان نے جمعے کے روز اپنے ایک اعلان میں کہا ہے کہ اس نے دو ہفتوں کے لیے ملک میں تمام غیرملکی سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا ہے۔

یہ اعلان بھارت سے ملک میں داخلے ہونے والے ایک ٹورسٹ میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد کیا گیا ہے۔

بھوٹان ہمالیہ کی پہاڑی سلسلے میں واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی سرحدیں بھارت سے ملتی ہیں۔ بھوٹان کی زیادہ تر آمدنی کا انحصار سیاحوں پر ہے جو کوہ پیمائی، قدرتی مناظر اور ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثفافت کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں اس ملک میں آتے ہیں۔

کرونا وائرس کی تشخیص ایک 79 سالہ ٹورسٹ میں ہوئی ہے جو بھارت سے فضائی سفر کے ذریعے 21 فروری کو بھوٹان میں داخل ہوا تھا۔

ٹورسٹ کو اسپتال میں داخل کر کے قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔

ملک کی وزارت صحت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاحوں کی آمد پر دو ہفتوں کے لیے پابندی لگا دی گئی ہے جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کو دو ہفتوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور تمام بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمناروں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

ادھر بھارت میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 31 ہو گئی ہے۔

کرونا وائرس کی علامات فلو سے ملتی جلتی ہیں۔ وہ بہت تیزی سے ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وائرس کا حملہ پھیپھڑوں پر ہوتا ہے جس سے مریض نمونیے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

خیال ہے کہ اس وائرس کی شروعات چین کے مرکزی شہر ووہان سے ہوئی اور مسافروں کے ذریعے وہ دوسرے ملکوں میں منتقل ہوا۔

کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ چکی ہے جب کہ دنیا بھر میں 3300 سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

سخت تر اقدامات کے باعث چین میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آ رہی ہے جب کہ یورپ، جنوبی کوریا اور ایران میں اس کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG