رسائی کے لنکس

logo-print

بائیڈن کے کانگریس سے خطاب میں خارجہ امور کو کتنی اہمیت ملی؟


صدر بائیڈن کا امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے بدھ کی رات اپنے پہلے خطاب میں توجہ ملک کے اندر کرونا کی صورتحال، ملکی معیشت و روزگار کے مواقع، ریلیف پیکجز، سیاسی تقسیم، بندوق کے ذریعے پھلتے ہوئے تشدد جیسے اندرونی معاملات پر مرکوز رکھی۔ تاہم، انہوں نے افغانستان، چین، شمالی کوریا اور ایران کے معاملات کو بھی اپنی تقریر کا حصہ بنایا۔

وائس آف امریکہ نے ماہرین سے سوال کیا کہ آیا خارجہ امور پر صدر کی ترجیحات کیا نظر آئی ہیں، اور وہ اپنے پیش رو سے ان محاذوں پر کہاں تک مختلف نظر آئے اور کہاں واشنگٹن کی روایتی پالیسی پر گامزن نظر آئے؟

چین سے مسابقت کی بات پر بائیڈن کا لہجہ ٹرمپ سے زیادہ سخت تھا؟

صدر بائیڈن نے اپنی تقریر میں چین کا کئی بار حوالہ دیا۔ چینی صدر کے ساتھ اپنے حالیہ رابطوں کے پس منظر میں بتایا کہ وہ اپنے ہم منصب پر واضح کر چکے ہیں کہ ہم بیجنگ کے ساتھ ایک صحت مند تقابل کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن، کسی تنازعے کے خواہاں نہیں ہیں۔ ان کے بقول، انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کا معاملہ ہو یا تجارت کا وہ امریکی مفادات کا دفاع کریں گے۔ بائیڈن نے بتایا کہ انہوں نے صدر ژی پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ ایشیا بحر الکاہل خطے میں اپنی مضبوط فوجی موجودگی برقرار رکھیں گے جیسا کہ وہ یورپ میں اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ رکھے ہوئے ہیں تاہم، اس کا مطلب تنازعہ شروع کرنا نہیں بلکہ تنازعات کو روکنا ہے۔

واشنگٹن میں کیٹو انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر سحر خان نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ صدر نے امریکی خارجہ پالیسی کی خصوصیت، یعنی روایتی معیار کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے چین کو صاف پیغام بھی دیا، لیکن اپنا لہجہ نرم رکھا ہے۔

باسٹن یونیورسٹی میں پرڈی سکول آف گلوبل سٹڈیز کے ڈین ڈاکٹر عادل نجم نے وائس آف امریکہ سے اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن نے اپنے خطاب میں خارجہ امور پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ ان کے بقول، ملک میں مسائل ایسے ہوں جیسے پاکستان یا دیگر ترقی یافتہ ملکوں کو درپیش ہوتے ہیں تو خارجہ پالیسی ویسے بھی ایجنڈے پر اوپر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر ایسے میں باہر کی دنیا کی بات کرتے، جب ملک کے اندر سیاسی تقسیم بہت زیادہ ہے، تو بائیڈن نہیں بلکہ کسی بھی صدر کے لیے یہ نامناست ہوتا اور اس کے منفی سیاسی اثرات ہوتے۔

ڈاکٹر عادل نجم نے کہا کہ صدر بائیڈن چین سے متعلق غیر لچکدار نظر آئے اور جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے چینی صدر کی تعریف کی اور نرم رویہ اختیار کیا۔ ان کے بقول، یہ تاثر درست نہیں ہے۔ عادل نجم کے مطابق، سرپرائز یہ ہے کہ بائیڈن اپنے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بھی چین کے حوالے سے سخت نظر آئے۔

پروفیسر عادل نجم کہتے ہیں کہ چین اور امریکہ کی مخاصمت کی ایک تاریخ ہے اور کووڈ نائنٹین، ان کے الفاظ میں، "ہلکی آنچ پر پکنے والی مخالفت کو دنیا کے سامنے لے آیا ہے"۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت امریکہ اور چین کی سیاست دنیا کی ایک بڑی اور ایک ابھرتی ہوئی طاقت کی سیاست نہیں بلکہ دنیا کی دو بڑی قوتوں کی سیاست ہے اور اس کا سایہ چینی اور دنیا کی سیاست پر رہے گا۔

کیا بائیڈن ایران کوکچھ رعایتیں دے سکتے ہیں؟

ایران پر تفصیلی بات کرنے کے بجائے صدر بائیڈن نے اس کے جوہری پروگرام کو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے ساتھ جوڑنے پر ہی اکتفا کیا اور ان دونوں ملکوں کے پروگراموں کو امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ایران کے ساتھ دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے منصوبے کا دوبارہ حصہ بننے کی بائیڈن انتظامیہ کی خواہش کی بھی تفصیل نہیں دی۔ ایسا کیونکر ہوا؟

اس بارے میں ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ نطانز کی جوہری تنصیب پر حالیہ حملے نے معاملے کو حساس بنا دیا ہے۔ غالباً اس وجہ سے صدر بائیڈن نے زیادہ زور نہیں دیا۔ ان کے بقول، واشنگٹن کے لیے یہ بات اس لیے بھی مشکل ہے کہ وہ اسرائیل کے جوہری پروگرام پر بات نہیں کرتا، حالانکہ ایران اور شمالی کوریا کی نسبت اسرائیل کے جوہری پروگرام کی شفافیت کہیں کم ہے۔

ڈاکٹر سحر خان کے بقول، امریکہ کی طرف سے تہران پر پابندیوں نے ایران کو بہت مشکل صورتحال سے دوچار رکھا ہے، بالخصوص کرونا وائرس کے دنوں میں۔ غالباً، اب انسانی بنیادوں پر بائیڈن تہران کے لیے کچھ نرمیاں چاہتے ہوں کہ ایرانیوں کو عالمی وبا کے خلاف ویکسین مل سکے۔

امریکہ کے فارن پالیسی میگزین نے بھی وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کا دوبارہ حصہ بنتا ہے، جیسا کہ جو بائیڈن اپنی انتخابی مہم میں کہتے آئے ہیں، تو اس سے واشنگٹن دراصل تہران کو نوے ارب ڈالر کا فائدہ پہنچائے گا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، واشنگٹن اس بارے میں غور کر رہا ہے کہ ایران کے مرکزی بنک پر دہشتگردی سے متعلق عائد پابندیوں میں کچھ نرمی لائی جائے۔

عادل نجم اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایران بائیڈن انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے صفحے پر اول نمبر پر آ گیا ہے۔ سابق صدر ٹرمپ کے دور میں شمالی کوریا ٹاپ پر تھا۔ ان کے بقول، صدر بائیڈن اوباما انتظامیہ میں جب امریکہ کے نائب صدر تھے، وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے بڑے حامی رہے ہیں۔ کانگریس سے خطاب میں اس مسئلے پر زیادہ گفتگو نہ کرنے کی وجہ، عادل نجم کے مطابق، ’’پولیٹیکل سپیس‘‘ کا کم ہونا ہے، کیونکہ کوئی بھی صدر ایسے میں بیرونی محاذوں پر غیر ضروری بحث سے گریز کرتا ہے جب قوم اندرونی مسائل سے دوچار ہو۔

شمالی کوریا پر ڈپلومیسی کا راستہ نتیجہ خیز ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر سحر کے مطابق، شمالی کوریا کا جوہری پروگرام ایران سے مختلف معاملہ ہے۔ ایران بین الاقوامی جوہری ادارے اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں کو اعتماد میں لیتا ہے، جبکہ نارتھ کوریا کو ایک 'روگ اسٹیٹ' سمجھا جاتا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر روایتی انداز میں کم جانگ اُن کے ساتھ اس معاملے پر براہ راست گفتگو کی۔ لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ یہ دیکھتے ہوئے صدر بائیڈن واپس ڈپلومیسی یا ڈیٹرنس کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔

کیا بائیڈن افغانستان کے معاملے پر جلدی میں ہیں؟

افغانستان سے متعلق صدر بائیڈن کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ وہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کر چکے ہیں۔ دنیا کی اس طویل ترین جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے بقول، اس وقت افغانستان میں امریکہ کے ایسے اہلکار بھی خدمات انجام دے رہے ہیں جو 2001 میں نائن الیون کے دہشت گرد حملے کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور نائن الیون کے ذمہ دار اسامہ بن لادن کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچا دیا گیا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا امریکہ کی خارجہ پالیسی کا محور نہیں ہے اور شاید کبھی تھا بھی نہیں، لیکن افغانستان میں فوجی موجودگی نے اس کو اہم بنا رکھا تھا۔

عادل نجم کے مطابق، صدر بائیڈن کی نہ صرف تقریر بلکہ فارن پالیسی ہی ''منتشرخیالی'' کا نتیجہ نظر آتی ہے۔ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ بھی جس جلدی میں لیا گیا ہے اس کے پیچھے اندر کے پیچیدہ اور منقسم سیاسی حالات تھے۔ ڈاکٹر نجم کے مطابق، اس وقت تو بائیڈن کچھ بھی کریں، وہ اپنے پیش رو سے مختلف ہی نظر آئیں گے اور آنا بھی چاہیں گے۔

ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ بظاہر لگتا ہے کہ صدر بائیڈن دوسری مدت صدارت کی طرف نہیں دیکھ رہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جو کام بھی وہ کر سکتے ہیں، جلدی سے کرتے جائیں۔

تجزیہ کار کہتی ہیں کہ جوہری عدم پھیلاؤ، چین کی نامناسب تجارتی پریکٹس کو روکنا، روس اگر جارحیت دکھائے تو امریکہ اس کا مقابلہ کرے گا، یہ امریکی خارجہ پالیسی کے تین بنیادی ستون ہیں، اور صدر بائیڈن نے خارجہ پالیسی کے محاذ پر ان تینوں ستونوں کو برقرار رکھا ہے۔ کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آ رہی، البتہ انداز مختلف ہے۔

XS
SM
MD
LG