رسائی کے لنکس

logo-print

ووٹوں کی گنتی آخری مراحل میں، بائیڈن کی برتری میں اضافہ


غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو ری پبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔

امریکہ میں منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں باقی ماندہ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی بدستور جاری ہے اور چھ میں سے چار ریاستوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جو بائیڈن کی برتری میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت جن چھ ریاستوں کے نتائج آنا باقی ہیں ان میں سے نارتھ کیرولائنا اور الاسکا میں صدر ٹرمپ کو اپنے ڈیموکریٹ حریف پر سبقت حاصل ہے۔

جو بائیڈن نیواڈا اور ایریزونا میں صدر ٹرمپ سے آگے ہیں جب کہ جمعے کی صبح انہیں پینسلوینیا اور جارجیا میں اپنے ری پبلکن حریف پر جو برتری حاصل ہوئی تھی، اس میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

گو کہ ان چاروں ریاستوں میں جو بائیڈن کی برتری معمولی ہے اور اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے، لیکن بظاہر جو بائیڈن کے وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے امکانات صدر ٹرمپ سے کہیں زیادہ ہیں۔

امریکہ میں کسی بھی امیدوار کو صدر منتخب ہونے کے لیے 538 رکنی الیکٹورل کالج کے کم از کم 270 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ الیکٹورل کالج میں امریکہ کی تمام 50 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے آبادی کے تناسب سے ووٹ ہیں اور دو ریاستوں – مین اور نیبراسکا – کے علاوہ باقی تمام ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کے تمام الیکٹورل ووٹ عوام کے اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کی جھولی میں جا گرتے ہیں۔

بائیڈن فتح سے 17 ووٹ کے فاصلے پر

جو بائیڈن کو اس وقت 253 الیکٹورل ووٹ حاصل ہو چکے ہیں اور وہ مطلوبہ ہدف سے صرف 17 ووٹ دور ہیں۔

پینسلوینیا کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 20 ہے اور اگر جو بائیڈن صرف یہی ایک ریاست جیت جاتے ہیں تو وہ بآسانی امریکہ کے 46 ویں صدر منتخب ہوجائیں گے۔

جارجیا کے 16، ایریزونا کے 11 اور نیواڈا کے 6 الیکٹورل ووٹ ہیں اور اگر جو بائیڈن ووٹوں کی گنتی کے اختتام تک ان ریاستوں میں بھی اپنی برتری قائم رکھنے میں کامیاب رہے تو الیکٹورل کالج میں ان کی برتری 306 تک پہنچ جائے گی۔

بائیڈن اگر پینسلوینیا سے نہیں بھی جیت پاتے تو بھی جارجیا، ایریزونا اور نیواڈا میں سے کوئی بھی دو ریاستوں میں کامیابی کی صورت میں بھی وہ باآسانی صدر بننے کے لیے درکار 270 الیکٹورل ووٹ کا ہدف حاصل کرلیں گے۔

نتائج میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

اس وقت ان تمام چار ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی جاری ہے جو زیادہ تر ان شہروں اور مضافاتی علاقوں کے ہیں جو روایتی طور پر ڈیموکریٹس کے زیرِ اثر ہیں۔

ان چاروں ریاستوں کے انتخابی قوانین کے تحت حکام پابند تھے کہ وہ ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹ الیکشن کے دن ڈالے جانے والے ووٹوں کے بعد گنیں گے۔

امریکہ میں اس بار کرونا کی وبا کی وجہ سے 10 کروڑ کے لگ بھگ رائے دہندگان نے 'ارلی ووٹنگ' میں حصہ لیا اور تین نومبر کو الیکشن ڈے سے قبل ہی ووٹ ڈالا۔ ان میں سے بیشتر ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے جن کی تصدیق اور گنتی میں زیادہ وقت لگتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان چھ ریاستوں میں اب تک ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

صدر ٹرمپ مشکل میں

بائیڈن کے برعکس صدر ٹرمپ کے لیے دوبارہ انتخاب کا راستہ نسبتاً مشکل اور اگر مگر سے بھرپور ہے۔ صدر ٹرمپ نے اب تک 214 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں اور صدر بننے کے لیے انہیں مزید 56 ووٹ درکار ہیں۔

یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے انہیں الاسکا اور نارتھ کیرولائنا (جہاں انہیں بائیڈن پر سبقت حاصل ہے) کے ساتھ ساتھ پینسلوینیا، جارجیا، ایریزونا اور نیواڈا میں سے کم از کم تین ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔

لیکن جیسے جیسے ان ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے آنے والے ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جو بائیڈن کی لیڈ میں اضافہ ہو رہا ہے اور صدر ٹرمپ کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔

انتخابی حکام کے مطابق اس بار صدارتی انتخاب میں 15 کروڑ ووٹ ڈالے گئے جو امریکہ کی تاریخ میں کسی بھی انتخاب میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ ان میں سے جو بائیڈن اب تک لگ بھگ سات کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ پاپولر ووٹ حاصل کرچکے ہیں جب کہ صدر ٹرمپ کے پاپولر ووٹوں کی تعداد سات کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG