رسائی کے لنکس

بائیڈن کی امیگریشن پالیسی میں تبدیلیاں، کچھ لوگوں کے لیے تاخیر سے ہوئیں


امیگریشن کے حکام ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والوں کو واپس بھیجنے کے لیے میکسیکو حکام کے حوالے کر رہے ہیں

نئے امریکی صدر جو بائیڈن جب اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے تھے، اس وقت فیلِپ اورٹیگا امریکہ میں 30سال رہنے کے بعد، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنے ایک وین پر سوار میکسیکو کی جانب سفر کر رہا تھا۔

58 سالہ اورٹیگا کو، جو ایک دادا ہے اور اس کے آٹھ بجے امریکی شہری بن چکے ہیں، ایک روز پہلے کام پر جاتے ہوئے امیگریشن ایجنٹوں نے ریاست ٹیکساس کے شہر مِڈ لینڈ سے ان کے گھر سے چند بلاک دور گرفتار کیا۔ انہوں نے اورٹیگا کو بتایا کہ اس کے خلاف ملک بدری کا حکم نامہ ہے جو 15 سال پہلے جاری ہوا تھا۔

ایک رات جیل میں گزارنے کے بعد اورٹیگا کو، جو کہ میکسیکو کے شہری ہے، ٹیکساس کی ریاست ایل پیسو سے شام ساڑھے چھ بجے امریکی سرحد کے پار میکسیکو بھیج دیا گیا۔

اورٹیگا سے صرف 24 گھنٹے کی چُوک ہو گئی، ورنہ نئے صدر کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی سے وہ ملک بدری سے بچ سکتا تھا۔

اورٹیگا نے سرحد پار سے ٹیلی فون پر رائٹرز کو بتایا کہ اس کے بچوں کے پاس امریکہ کی شہریت اور گرین کارڈ ہیں۔ لیکن میں اب سرحد کے پار ہوں۔ میں نے میکسیکو کو 30 سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ اب یہاں میرے لیے سب کچھ اجنبی ہے۔ کوئی مجھے نہیں جانتا۔

صدر بائیڈن نے اپنے پہلے انتظامی حکم نامے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے تحت، امریکہ میں رہنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر کے ملک بدر کیا جاتا تھا۔ ان میں وہ تارکینِ وطن بھی شامل تھے جن کا، اورٹیگا کی طرح کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔

اس ایک دم اچانک پالیسی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ، کیسے کانگریس کی جانب سے اس معاملے کو کوئی مستقل حل نہ دینے کے سبب، صدر کی جانب سے یک جنبشِ قلم لاکھوں تارکین وطن کی تقدیر ڈرامائی طور پر بدل سکتی ہے۔

تاہم ان اقدامات کے خلاف فیڈرل عدالت میں کئی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، جس سے مزید زندگیاں کہیں درمیان میں معلق ہو کر رہ جائیں گی، کیونکہ قانونی جنگ طُویل ہو سکتی ہے۔

منگل کے روز ، ریاست ٹیکساس کے ایک فیڈرل جج نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ملک بدری کے خلاف جاری کردہ انتظامی حکم نامے پر عمل درآمد کو سو دن کیلئے روک دیا۔

امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) نے مالی سال 2020 میں ایک لاکھ 85 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا۔ ان میں وہ افراد شامل نہیں ہیں جنہیں صدر ٹرمپ کے کرونا وائرس کی وبا کے دوران جاری کردہ ایک ضابطے کے تحت سرحد ہی سے فوری طور پر زبردستی واپس بھیج دیا جاتا تھا۔

اورٹیگا کو معلوم نہیں ہے کہ وہ ڈی پورٹ ہونے کے بعد کیا کبھی امریکہ اپنے بچوں کے پاس واپس جا سکے گا، جہاں اس نے اپنی زندگی کے 30 سال گزارے ہیں۔

صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ کے تحت، آئس کے افسران زیادہ صوابدید سے کام لیں گے۔ اپنی مدت صدارت کے پہلے دن، انہوں نے امیگریشن پر ایک مجوزہ مسودہ قانون کانگریس کو بھیجا ہے، جو اگر منظور ہو جاتا ہے تو اس سے ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 10 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کیلئے شہریت حاصل کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG