رسائی کے لنکس

logo-print

جوبائیڈن عراق کے اہم دورے پر


امریکی نائب صدر ایک ایسے موقع پر عراق کا دورہ کررہے ہیں جب وہاں سے امریکی لڑاکا دستوں کا انخلا مکمل ہوچکاہے اور اب وہاں صرف 50 ہزار امریکی فوجی باقی رہ گئے ہیں، جو وہاں اس وقت تک جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے جب تک ان سے درخواست نہ کی جائے اور عراقی فورسز بھی ان کے ساتھ ہوں۔ جو بائیڈن کا یہ دورہ عراق میں امریکہ کے نئے سفارتی کردار کی جانب پیش رفت ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن پیر کو ایک ایسے وقت میں عراقی دارلحکومت بغداد پہنچے جب امریکہ اس ملک سے اپنے لڑاکا فوجی دستوں کا انخلا مکمل کرچکاہے۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکی نائب صدر مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے بغداد پہنچے۔ وہ پروگرام کے مطابق منگل کو عراقی راہنماؤں سے مذاکرات کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ ان مذاکرات سے عراق میں امریکہ کے ایک بڑے سفارتی کردار کی جانب تبدیلی کا آغاز ہوگا۔

صدر براک اوباما منگل کے روز وائٹ ہاؤس سے خطاب کریں گے جس میں وہ عراق سے امریکی لڑاکا فوجیوں کے انخلا کو موضوع بنائیں گے۔

2007ء کے مقابلے میں جب عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد اپنی بلند ترین سطح یعنی ایک لاکھ 70 ہزار تھی، اب یہ تعداد50 ہزار کے لگ بھگ رہ جائے گی۔ مزید برآں اب امریکی فوجیوں کو جنگی کارروائیوں کے لیے جانے کی اجازت نہیں ہوگی تاوقتتکہ ان سے اس کی درخواست نہ کی جائے اور عراقی فورسز بھی ان کے ساتھ ہوں۔

یہ اہم تبدیلی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں نئی حکومت کی تشکیل کے معاملے پر سیاسی تعطل جاری ہے۔

عراق ان دنوں ، جہاں گذشتہ کچھ عرصے میں شورش پسندوں کی جانب سے سلسلے وار بم حملوں سے درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک میں امن و امان کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں، ہائی الرٹ ہے۔

XS
SM
MD
LG