رسائی کے لنکس

logo-print

الیکشن لڑتا تو ہار جاتا: جو بائیڈن کا اعتراف


جوبائیڈن نے کہا کہ انہوں نے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ ان کے خیال میں انہیں لگ رہا تھا کہ وہ جیت نہیں پائیں گے۔

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انہوں نے 2016ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ ان کے خیال میں اگر وہ انتخاب میں کھڑے ہوتے تو ہار جاتے۔

امریکی ٹی وی 'سی بی ایس' کے پروگرام '60 منٹس' میں گفتگوکرتےہوئے نائب صدر نے اس عمومی تاثر کی نفی کی کہ انہوں نے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ انتخابی مہم کے لیے زیادہ وقت نہ بچنے کی وجہ سے کیا۔

اتوار کو نشر کیے جانے والے انٹرویو میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ اگر انہیں یقین ہوتا کہ وہ اپنے حامیوں اور معاونین کی توقعات کے مطابق انتخابی مہم چلا پائیں گے تو وہ ضرور انتخاب لڑتے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ ان کے خیال میں انہیں لگ رہا تھا کہ وہ جیت نہیں پائیں گے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ان کے انتخاب لڑنے یا نہ لڑنے کے فیصلے کا کوئی تعلق صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کے ٹکٹ کی سرِ فہرست امیدوار ہیلری کلنٹن سے نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ شروع سے کہتے آئے ہیں کہ وہ ہیلری کو پسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ لیکن، ان کےبقول، اگر وہ انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرتے تو اس کی واحد وجہ ان کا یہ یقین ہوتا کہ وہ صدارتی ذمہ داریاں دیگر افراد سے کہیں بہتر انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹ حلقوں میں مقبول جو بائیڈن کے بارے میں عام تاثر تھا کہ اگر انہوں نے 2016ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان سابق خاتونِ اول ہیلری کلنٹن کو ہوگا جو اب تک سامنے آنے والے رائے عامہ کے بیشتر جائزوں کے مطابق سب سے مقبول ڈیموکریٹ امیدوار ہیں۔

بہتر سالہ جو بائیڈن نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ صدارتی انتخاب نہ لڑنے کے باوجود پارٹی سیاست میں حصہ لیتے رہیں گے اور جہاں ضرورت ہوگی اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

جوبائیڈن کے 2016ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لینے کے اعلان کےبعد اب ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی کے تین امیدواران میدان میں موجود ہیں جن میں سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن، سینیٹر برنی سینڈرز اور ریاست میری لینڈ کے سابق گورنر مارٹن او مالے شامل ہیں۔

امریکی نائب صدر نے اب تک ان میں سے کسی امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG