رسائی کے لنکس

logo-print

بٹیجج وزیرِ ٹرانسپورٹ نامزد، بائیڈن کا ری پبلکن رہنما مکونل سے رابطہ


بائیڈن نے بٹیجج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُن کے آنجہانی بیٹے بیو بائیڈن کی طرح ہیں۔

امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے ٹکٹ کے لیے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل رہنے والے پیٹ بٹیجج کو وزیرِ ٹرانسپورٹ نامزد کر دیا ہے۔

ساؤتھ بینڈ، انڈیانا کے سابق میئر پیٹ بٹیجج جب ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی اُمیدواروں کی دوڑ میں شامل ہوئے تو بعض حلقوں کی جانب سے اس پر حیرانگی کا اظہار کیا گیا۔ وہ کھلے عام ہم جنس پرست ہونے کا اعتراف کرنے والے پہلے ڈیموکریٹک اُمیدوار تھے جنہیں کچھ ڈیلیگیٹس کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔

پیٹ بٹیجج، چند ڈیمو کریٹک مباحثوں میں بھی شریک ہوئے تھے تاہم رواں سال مارچ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات سے قبل ہی وہ ڈیموکریٹک صدارتی اُمیدواروں کی دوڑ سے دست بردار ہو گئے۔

بائیڈن نے 38 سالہ بٹیجج کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "میرے لیے وہ میرے آنجہانی بیٹے بیو بائیڈن کی طرح ہیں۔"

پیٹ بٹیجج نے 2018 میں چیسٹن نامی شخص سے شادی کی تھی۔

بائیڈن نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے سربراہ کے طور پر بٹیجج ملک میں سڑکوں کے نظام، جہاز، ٹرینوں اور ماس ٹرانزٹ سسٹم کی دیکھ بھال کریں گے۔

نو منتخب صدر نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ امریکہ میں انفراسٹرکچر کی مد میں اربوں ڈالر خرچ کریں گے تاکہ کرونا وبا سے متاثرہ امریکی معیشت کو جلدازجلد بحال کیا جا سکے۔

مچ مکونل سے ٹیلی فونک رابطہ

جو بائیڈن نے کہا کہ اُنہوں نے منگل کو سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے اکثریتی رہنما مچ مکونل سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

بائیڈن کا کہنا تھا کہ بلاشبہ ری پبلکنز کے ساتھ کئی معاملات پر ہمارے اختلافات ہیں، لیکن اب بھی کئی ایسے معاملات ہیں جن میں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔

مچ مکونل 3 نومبر کے بعد سے ہی جو بائیڈن کی کامیابی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

البتہ منگل کو سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مکونل نے کہا کہ الیکٹورل کالج کی جانب سے بائیڈن کی کامیابی کی تصدیق کے بعد اب یہ حقیقت ہے کہ وہ آئندہ چار سال کے لیے ملک کے صدر ہوں گے۔

مچ میکونل (فائل فوٹو)
مچ میکونل (فائل فوٹو)

مچ مکونل نے کہا کہ پیر کو الیکٹورل کالج کے نتائج کے بعد تصدیق ہو گئی ہے کہ کون امریکہ کا صدر اور کون نائب صدر ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت لاکھوں امریکی اس سے مختلف تنیجہ چاہتے تھے لیکن الیکٹورل کالج نے یہ طے کر دیا ہے کہ 20 جنوری کو کون حلف اُٹھائے گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو تاحال انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انتخابی عمل میں دھاندلی کے دعوے پر قائم ہیں، مچ مکونل کے اس بیان پر تاحال کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔

البتہ صدر نے ایک ٹوئٹ میں ایک بار پھر بغیر شواہد کے صدارتی الیکشن میں فراڈ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے شواہد آ رہے ہیں اور ایسا ہمارے ملک میں کبھی نہیں ہوا۔

البتہ، ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ پر بھی انتباہی نوٹس لگا دیا۔

منگل کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے مچ مکونل کے بیان سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ "فی الحال صدر ٹرمپ انتخابی نتائج کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں مصروف ہیں۔"

منگل کو جارجیا روانگی سے قبل ڈیلاویئر ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ کامیابی پر مبارکباد دینے پر اُنہوں نے مکونل کو شکریے کا فون کیا تھا، تاہم یہ گفتگو بہت اچھی رہی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG