رسائی کے لنکس

logo-print

بائیڈن نے پہلی جنگِ عظیم میں آرمینیائی لوگوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دے دیا


امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے مبینہ قتلِ عام کو نسل کشی قرار دے دیا ہے۔

صدر بائیڈن کی جانب سے آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی تسلیم کرنا اُن کے انتخابی وعدے کی تکمیل ہے جب کہ اس کا اعلان اس روز کیا گیا ہے جب آرمینیا کے لوگ ہلاک ہونے والوں کی یاد مناتے ہیں۔

ہفتے کو صدر بائیڈن کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ "ہر سال ہم اسی روز اُن آرمینیائی باشندوں کو یاد کرتے ہیں جو سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں مارے گئے اور اُن کی نسل کشی کی گئی۔ یہ دن ہمارے اس عزم کو مزید پختہ کرتا ہے کہ ہم دوبارہ ایسا ظلم نہیں ہونے دیں گے۔"

صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی عوام اُن آرمینیائی شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو 106 سال قبل شروع ہونے والی نسل کشی کے دوران مارے گئے تھے۔

صدر نے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ آرمینیائی لوگوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی تسلیم کرنے کی قرارداد کی حمایت کریں گے بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کا تحفظ اُن کی اولین ترجیح ہو گا۔

بدھ کو امریکی ایوانِ نمائندگان کے 100 اراکین نے ایک خط کے ذریعے صدر بائیڈن پر زور دیا تھا کہ وہ آرمینیائی لوگوں کے خلاف کارروائی کو نسل کشی تسلیم کرنے والے امریکہ کے پہلے صدر بن جائیں۔

قانون سازوں نے اپنے خط میں کہا تھا کہ "امریکی حکومت کی جانب سے طویل عرصے سے آرمینیائی لوگوں کی نسل کشی کو تسلیم نہ کرنا باعثِ شرمندگی ہے۔ لہذٰا صدر بائیڈن اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے سچ سامنے لائیں۔"

ترکی کا ردِعمل

ترکی کے وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ "حقائق کو مسخ کرنے پر مبنی اس اقدام کو ترک عوام کبھی قبول نہیں کریں بلکہ یہ ایک ایسا گہرا زخم کھول دے گا جس سے دونوں ممالک کے باہمی اعتماد اور دوستی کو ٹھیس پہنچے گی۔"

اُن کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن اپنی اس غلطی کو درست کریں کیوں کہ مخصوص سیاسی حلقوں کو مطمئن کرنے کے علاوہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

مؤرخین کے مطابق 1915 سے 1923 کے دوران لگ بھگ 15 لاکھ آرمینیائی باشندے جدید ترکی سے قبل قائم سلطنتِ عثمانیہ کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

آرمینیا کا یہ الزام رہا ہے کہ اس کے باشندوں کو اس دور میں بھوک و افلاس، جبری مشقت، جلا وطنی اور قتلِ عام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

البتہ، ترکی دانستہ طور پر نسل کشی کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس کا مؤقف رہا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ جنگ کے دوران یا روسیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے آرمینیائی باشندوں کی تعداد عام طور پر سمجھی جانے والی تعداد 15 لاکھ سے کہیں کم ہے۔

XS
SM
MD
LG