رسائی کے لنکس

بائیڈن: غزہ میں امداد کی اجازت کے لیے اسرائیل وہ کر رہا ہے جو اسے کرنے کو کہا ہے


صدر بائیڈن اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو۔فائل فوٹو
صدر بائیڈن اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو۔فائل فوٹو
  • جمعرات کو بائیڈن نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی کا انحصار غزہ میں شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ پر ہے۔
  • بائیڈن؛ میں نے ان سے(اسرائیل سے) جو کرنے کو تھا وہ وہی کر رہے ہیں۔
  • امریکہ سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی علیحدہ تحقیقات کا ارادہ نہیں رکھتا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کو کہا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی اجازت دینے کے ان کے مطالبے پر عمل کر رہا ہے، اس سے ایک دن قبل انہوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو پالیسی میں بڑی تبدیلی کے بارے میں انتباہ کیا تھا۔

بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے جاتے ہوئے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ فون کال میں اسرائیل کو فوجی امداد روکنے کی دھمکی دی تھی، جواب دیا، "میں نے ان سے جو کرنے کو تھا وہ وہی کر رہے ہیں۔"

جمعرات کو اس اسرائیلی حملے کے بعد جس میں سات امدادی کارکن مارے گئے تھے، تناؤ پر مبنی ایک کال میں، بائیڈن نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی کا انحصار غزہ میں شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ پر ہے۔

دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے چند گھنٹے بعد، اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ قحط کے خطرے سے دوچار شمالی غزہ میں اسرائیلی بندرگاہ اشدود اور ایریز بارڈر کراسنگ کے ذریعے "عارضی" امداد کی ترسیل کی اجازت دے گا۔

اسرائیل نے یہ بھی کہا کہ وہ ڈرون حملوں کی وجہ سے "سنگین غلطیوں" کے ایک سلسلے کا پتہ لگانے کے بعد دو افسران کو برطرف کر رہا ہے جس میں ورلڈ سینٹرل کچن کے سات امدادی کارکن ہلاک ہوئےتھے۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بائیڈن سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایک کال میں صحافیوں کو بتایا تھا، "ان وعدوں کے لیے، انہیں مکمل طور پر پورا کرنا اور تیزی سے عمل درآمد ضروری ہے۔"

تاہم کربی نے مزید کہا کہ یہ متوقع نہیں ہے کہ امریکہ امدادی کارکنوں کی موت کی خود اپنی تحقیقات کرے گا، جن میں کینیڈین نژاد امریکی شہری جیکب فلکنگر بھی شامل ہیں۔

کربی نے کہا، "امریکہ کا اس واقعے کی آزادانہ یا علیحدہ تحقیقات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔"

بظاہر پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں بائیڈن کا انتباہ، عسکریت پسند گروپ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد، اس کے خلاف شروع ہونے والی اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے، واشنگٹن کی فوجی مدد کے لیے ممکنہ شرائط کا اب تک کا سب سے واضح اشارہ تھا۔

فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور غزہ میں سنگین انسانی صورت حال پر تشویش کے باوجود امریکی صدر اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔

تاہم نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات کے قریب آنے کے بعد، بائیڈن کو اپنی غزہ پالیسی کے خلاف مسلمانوں اور نوجوان ووٹروں کی طرف سے بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے، کچھ اہم اتحادیوں نے بھی ان سے راستہ بدلنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس رپورٹ کا کچھ حصہ ایجنسی فرانس پریس کے مواد پر مبنی ہے۔

فورم

XS
SM
MD
LG