رسائی کے لنکس

logo-print

روس کا پڑوسی یورپی ممالک کی قوت کا غلط اندازہ: بائیڈن


جرمنی، فرانس، روس، یوکرین اور روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے درمیان یہ منسک معاہدہ اس سال فروری میں ہوا تھا، جس کے تحت فائربندی، غیر ملکی افواج کی واپسی اور بھاری اسلحے کے خاتمے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکالا جا سکے

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ یورپی سیکورٹی کے لئے مستقل مسئلہ بن جانے والے یوکرین میں روس کی جارحیت کے خلاف کھڑا ہے۔

واشنگٹن کے بروکین انسٹیٹوٹ میں بدھ کو خطاب کرتے ہوئے، امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’یوکرین کی مدد کرنا ملک کے مستقبل، یورپ کی سیکورٹی اور بین الااقوامی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔‘

طویل عرصہ سے یوکرین قائدین اصلاح کے منصوبے پر یقین رکھتے ہیں، امریکہ اس مسئلے پر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ موجودہ حالات میں روس پر امریکی پابندی لازمی ہوگئی ہے، جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک منسک معاہدے پر پوری طرح عمل نہ کیا جائے۔

جرمنی، فرانس، روس، یوکرین اور روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے درمیان یہ منسک معاہدہ اس سال فروری میں ہوا تھا، جس کے تحت فائربندی، غیر ملکی افواج کی واپسی اور بھاری اسلحےکے خاتمے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکالا جاسکے۔

نائب صدر جو بائیڈن کے مطابق، امریکی افواج کو روس کی جارحیت کے نتجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیہ کا سامنا کرنے کی بھی ہدایت کی جائے گی۔ انھوں نے امریکہ کی جانب سے روس کے خلاف سخت ترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا وہ اپنے پڑوسی یورپی ممالک کی قوت اور محل وقوع کی بالادستی کا غلط اندازہ لگا کر اقدامات کر رہا ہے جس کی امریکہ اور مغرب سخت مذمت کرتے ہیں۔

بائیڈن نے کہا کہ روسی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ویلادیمیر پوتین بدل گئے ہیں اور خود پر مجرمانہ لیبل لگالیا ہے۔اور روسی پڑوسیوں کی خودمختاری کی توہین پر مبنی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس لئے آج دنیاانھیں مختلف نظر آرہی ہے۔ امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ چونکہ پوتین بدل چکے ہیں اس لئے ہماری توجہ بھی تبدیل ہوئی ہے اور ہم دنیا کے سامنے روس کا اصل چہرہ لاتے رہے ہیں گے۔

نائب صدر نے مزید کہا کہ پیوٹن روسی عوام کی خدمت کا کوئی ویژن نہیں رکھتے ۔

XS
SM
MD
LG