رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیموکریٹک پارٹی کو نائب صدر کے عہدے کے لیے موزوں امیدوار کی تلاش


فائل

نومبر کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار جو بائیڈن موجودہ ری پبلکن صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کے مد مقابل ہوں گے۔ اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کے سامنے سب سے بڑا سوال نائب صدر کے لیے امیدوار کا انتخاب ہے۔

امریکہ میں ہسپانوی امریکیوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے اور آنے والے انتخاب میں ان کا بہت اہم کردار ہوگا۔

بہت سے ہسپانوی امریکی بائیڈن کے بارے میں اس لیے مشکوک ہیں کہ انہوں نے تارکین وطن سے متعلق اوباما کی پالیسیوں کی حمایت کی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی بہت بڑی تعداد برنی سینڈرز کی حامی رہی ہے۔ یاد رہے کہ برنی سینڈرز اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے امیدوار تھے اور پرائمری کے آخری مرحلے پر جو بائیڈن نے انہں شکست دے دی تھی۔

بائیڈن کی کوشش ہوگی کہ وہ امریکہ میں آباد مختلف نسلی گروپوں کے ووٹ حاصل کریں۔ ان کے سامنے افریقی امریکی ووٹرز بھی ہیں، جن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں کسی افریقی امریکی امیدوار کو بطور نائب صدر سامنے لانا ہوگا۔

لاطینی سیاست کا تجزیہ کرنے والے ایک ادارے کی سربراہ، سٹیفنی ویلینشیا کہتی ہیں کہ ہمیں اس بات میں زیادہ دلچسپی ہے کہ ہسپانوی ووٹرز کی بائیڈن کی نظر میں کیا وقعت ہے۔

بائیڈن نے نائب صدر کے امیدوار کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جو ممکنہ امیدواروں کی ایک مختصر فہرست تیار کرے گی۔ اس سے قبل دو غیر سفید فام خواتین کے نام بھی سننے میں آرہے تھے، ایک سینیٹر کملا ہیرس اور دوسری ہیں جارجیا کی سٹیسی ابرامز۔ مگر ان کے مقابلے میں سینیٹر الزبتھ وارن کی ملک گیر شہرت زیادہ ہے۔

ہسپانوی امریکیوں کے ایک اور سیاسی گروپ کی سربراہ میرا مےسیاس کا کہنا ہے کہ بعض اہم ہسپانوی امریکیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ مناسب نہیں تھا۔ ان کے گروپ نے جولیان کاسٹرو کی حمایت کی تھی۔ مے سیاس کا کہنا ہے کہ ہسپانوی نژاد لیڈروں کو شامل کرنے سے ثقافتی رنگارنگی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات بھی نمایاں ہوتی ہے کہ ہماری برادری کا کتنا احترام ہے۔

صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں سے ہسپانوی امریکی ووٹرز خوش نہیں ہیں، مگر بائیڈن کے سامنے اصل مسئلہ ان لوگوں کو گھروں سے باہر لانا اور اپنے حق میں ووٹ دلوانا ہے۔

ہسپانوی امریکی شہریوں کے ایک اور گروپ کے سرگرم لیڈر کا کہنا ہے نائب صدر کے انتخاب کے علاوہ بائیڈن کو یہ بات بھی سامنے رکھنی ہو گی کہ وہ کسی جال میں نہ پھنس جائیں۔ ہیلری کلنٹن کی طرح یہ فرض نہ کرلیں کہ ہر کوئی ٹرمپ کے خلاف ہے، اس لیے وہ جیت جائیں گے۔

ہسپانوی امریکی سیاست کے سرگرم کارکنوں کا کہنا کہ خاموشی سے انیہں بائیڈن کی انتخابی مہم میں شامل رکھا جا رہا ہے، جبکہ افریقی امریکی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش زور شور سے ہو رہی ہے۔ ان کے خیال میں وہ تمام مسائل جو عام امریکی کے لیے اہم ہیں وہ ہسپانوی امریکی کے لیے بھی اتنے ہی اہم ہیں۔

خود بائیڈن ہسپانوی امریکیوں سے اتنے قریب نظر نہیں آتے جتنے وہ افریقی امریکی ووٹروں اور لیڈروں کے قریب ہیں۔

اس سال ہونے والے صدارتی انتخاب میں تین کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ ہسپانوی امریکی ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، یعنی ان کی تعداد افریقی امریکی ووٹرز سے زیادہ ہوگی۔ فلوریڈا اور ایریزونا جیسی ریاستوں میں ان کے ووٹ بازی پلٹ سکتے ہیں۔ اس لیے، ہسپانوی امریکی ووٹرز کی اہمیت اور ضرورت کو بائیڈن نظر انداز نہیں کر سکتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG