رسائی کے لنکس

logo-print

بڑے بینکوں کو غیر ملکی کرنسی پر اثر انداز ہونے پر جرمانہ


ان میں سے چار بینکوں سٹی گروپ، جے پی مارگن، چیز، بارکلے اور رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ پر اعتماد شکنی کے قانون کی خلاف ورزی جبکہ کہ پانچویں بینک ’یو بی ایس‘ کو کلیدی شرح سود پر اثر انداز ہونے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے پانچ بینکوں کو غیر قانونی طور پر ملی بھگت کر کے کرنسی کے تبادلے کی شرح پر اثر انداز ہونے پر پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر جرمانوں کا سامنا ہے۔

امریکہ کے محکمہ انصاف کے حکام نے بدھ کو کہا کہ ان بینکوں میں کرنسی کا لین دین کرنے والوں نے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کے، ملی بھگت کر کے ڈالر اور یورز کی قیمت پر اثر انداز ہونے کے لیے ان کی خریداری کو روکنے یا شروع کرنے کا کام کیا۔

تاجروں کے اس گروپ نے اپنے آپ کو ’’دی کارٹل‘‘ کا نام دیا تھا اور وہ کرنسی کی شرح تبادلہ پر اثر انداز ہونے کے لیے الیکٹرانک چیٹ روم اور خفیہ اشاروں کی زبان استعمال کرتے تھے۔

امریکہ کی اٹارنی جنرل لوریٹا لنچ نے کہا کہ بھاری جرمانےضروری تھے کیوںکہ ’’مارکیٹ میں ان کرنسیوں کی مقرر کی گئی قیمت دنیا کی معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتی ہے۔‘‘ دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یورو اور ڈالر مارکیٹ کی قدر امریکی اسٹاک مارکیٹ کی قدر سے ’’پانچ گنا‘‘ زیادہ ہے۔

لنچ نے مزید کہا کہ ان افعال سے ’’بنکوں کے منافع میں اضافہ ہوا‘‘جبکہ ان گنت صارفین، سرمایہ کاروں اور دنیا بھر کے اداروں جن میں پینشن فنڈز سے لے کر بڑی کمپنیاں شامل ہیں، کو نقصان پہنچا۔

ان میں سے چار بینکوں سٹی گروپ، جے پی مارگن، چیز، بارکلے اور رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ پر اعتماد شکنی کے قانون کی خلاف ورزی جبکہ کہ پانچویں بینک ’یو بی ایس‘ کو کلیدی شرح سود پر اثر انداز ہونے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

ان میں سے کچھ جرمانے امریکہ کے وفاقی بینکنگ نظام اور برطانیہ میں عہدیداروں کی طرف سے عائد کئے گئے ہیں۔

انگلینڈ کے قصبے کوونٹری میں واقع یونیورسٹی آف وارک کے بزنس اسکول کے سربراہ مارک ٹیلر نے کہا کہ اس طرزعمل نے ’’ہم سب کو دھوکہ دیا ہے‘‘ اور ’’تجارت کی اخلاقیات پر گہری ضرب لگائی ہے۔‘‘ پروفیسر ٹیلر جن کی تحقیق کے موضوعات میں غیرملکی کرنسی کا معاملہ بھی شامل ہے، نے کچھ تکنیکی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے جن سے کرنسی مارکیٹ پر اثر انداز ہونا مشکل ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG