رسائی کے لنکس

برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کاروں کی فروخت کم ترین سطح پر


فائل فوٹو

برطانیہ کے ایک تجارتی ادارے نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن کے اثرات کی وجہ سے کاروں کی فروخت میں 30 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ 1943 کے بعد اب تک کی کاروں کی فروخت میں سب سے بڑی کمی ہے۔

گاڑیاں بنانے والی کاروباری اور تجارتی کمپنیوں کی تنظیم "سوسائٹی آف موٹر مینیو فیکچررز اینڈ ٹریڈرز" کے مطابق سال 2020 میں کاروں کی مانگ 16 لاکھ 30 ہزار پر رہی، جب کہ اپریل میں لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد کاروں کی سیل میں 97 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹو مائیک ہاوئیز کا کہنا ہے کہ “ہم نے تین سے چار مہینے میں سات سے آٹھ لاکھ گاڑیوں کی فروخت کا نقصان اٹھایا ہے۔”

نومبر میں دوبارہ لاک ڈاؤن کے بعد گاڑیوں کے شو روم بھی بند ہو گئے تھے مگر اس بار وہ آن لائن سیل کے لیے تیار تھے۔ اس کے باوجود پچھلے سال کی نسبت 27 فیصد کم سیلز ہوئیں۔

گاڑیوں کی فروخت میں یہ 1943 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ 1943 میں برطانیہ دوسری جنگ عظیم لڑ رہا تھا اور موٹر ساز انڈسٹری اس جنگ میں اپنے ملک کی مدد کر رہی تھی۔

پچھلے برس آٹو انڈسٹری یورپین یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کی بھی منتظر تھی۔ 24 دسمبر کو برطانیہ اور یورپی یونین میں تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے اور برطانوی مصنوعات پر اضافی ٹیکس فوری طور پر نہیں لگائے جائیں گے، لیکن انڈسٹری کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے اخراجات میں اضافہ متوقع ہے۔

یورپ میں نئی کاریں خریداروں کی منتظر ہیں۔ کرونا کی وبا کے باعث کاروں کی فروخت میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے۔
یورپ میں نئی کاریں خریداروں کی منتظر ہیں۔ کرونا کی وبا کے باعث کاروں کی فروخت میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے۔

برطانیہ میں ڈیزل گاڑیوں کی سیل 20 فیصد جب کہ الیکڑک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی سیل 10 فیصد ہے۔

نئے سال کے آغاز میں بھی گاڑیوں کی مارکیٹ کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے فروخت میں کمی آنے کا خدشہ ہے۔

سوسائٹی آف موٹر مینیوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز کا تخمینہ ہے کہ سال 2021 میں 20 لاکھ کے قریب گاڑیاں فروخت ہوں گی۔

مائیک ہائویز کے بقول “ہمیں اس وقت یہ دیکھنا ہے کہ ہم گاڑیوں کی فروخت کیسے برقرار رکھ سکیں”۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG