رسائی کے لنکس

پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کی فکر نہيں: بلاول


فائل

چيئرمين پاکستان پيپلز پارٹي بلاول بھٹو زرداري رواں ہفتے لاہور پہنچے جہاں انہوں نے پارٹی کے تنظیمی اجلاس کی صدارت کرنے کے علاوہ کارکنوں کے ساتھ افطار بھی کی۔

پاکستان کے سياست دانوں نے آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کي تياري شروع کر دي ہے اور ملک میں نئی سیاسی صف بندياں جاری ہیں۔

انتخابات سے قبل پنجاب میں پاکستان پيپلز پارٹي کے کئی رہنما اپني پارٹي کو الوداع کہہ گئے ہیں۔

حال ہی میں سابق صدر آصف زرداري کے دورِ اقتدار کے دو سابق وفاقي وزرا ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور نذر محمد گوندل نے پيپلز پارٹي سے اپنا برسوں پرانا ناتاختم کر کے پاکستا ن تحريک انصاف سے رشتہ جوڑا ہے۔

صورتِ حال کي نزاکت کو بھانپتے ہوئے چيئرمين پاکستان پيپلز پارٹي بلاول بھٹو زرداري رواں ہفتے لاہور پہنچے جہاں انہوں نے پارٹی کے تنظیمی اجلاس کی صدارت کرنے کے علاوہ کارکنوں کے ساتھ افطار بھی کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ انہیں پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کی کوئي پریشانی نہیں،کیوں کہ ان کے بقول پيپلز پارٹي کے جیالے ان کے ساتھ ہیں۔

تجزیہ کار عدنان عادل سمجھتے ہيں کہ پيپلز پارٹي کے بُہت سے رہنما اپنے ذاتي ووٹ بينک کو پارٹي کے کمزور ووٹ بينک سے خراب نہيں کرنا چاہتے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عدنان عادل کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات ميں ايک سال رہ گيا ہے اور اس سے قبل بلاول پارٹی کو متحرک کرنے کے لیے دورے کر رہے ہیں۔

پيپلز پارٹي وسطي پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ بھي ان دنوں اپني جماعت کو فعال رکھنے کے ليے کوششيں کرتے نظر آتے ہيں اور انہوں نے جماعت سے اپنے اختلافات کي سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کو بے بنياد قرار ديا ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پارٹي چھوڑنے والوں کو آخرکار پچھتانا پڑے گا۔

ان کے بقول کچھ لوگوں کي سانس جلدي پھول گئي ہے۔ اگر انہيں لگتا ہے کہ پيپلز پارٹي ميں رہتے ہوئے انہيں ووٹ نہيں ملے گا تو يہ ان کي غلط فہمي ہے۔

کائرہ نے کہا کہ جو لوگ اپني جماعت سے ساتھ وفادار نہيں وہ نئي جماعت کے ساتھ کيسے وفاداري نبھا سکتے ہيں؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG