رسائی کے لنکس

عمران حکومت کے خاتمے تک فیصلہ کن تحریک چلانے کا اعلان


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کراچی میں ایک ریلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ 18 اکتوبر 2019

کراچی میں سانحہ 18 اکتوبر 2007 کی بارہویں برسی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنا اور کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2007 میں آج ہی کے روز پارٹی کی سابق چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کی سات سال بعد وطن واپسی پر ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم سے کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت پیپلز پارٹی کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے اور اسی وجہ سے سے سابق صدر آصف علی زرداری کو علاج معالجے کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔

بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے خلاف اس احتجاجی تحریک میں تمام اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے ساتھ متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنے ظلم کا حساب دینا ہو گا اور اب اس حکومت کو گھر جانا ہو گا۔ پیپلز پارٹی عوام کی طاقت سے "سلیکٹڈ حکمرانوں" کو اٹھا کر باہر پھینک دے گی۔

جلسہ گاہ میں موجود افراد
جلسہ گاہ میں موجود افراد

انہوں نے متنبہ کیا کہ سلیکٹرز حکمرانوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں۔ اب ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ خان کی دھاندلی زدہ حکومت کو بے نقاب کر کے رہیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ داخلی، خارجی اور معاشی محاذ پر ناکام عمران خان حکومت کا ساتھ دینا کسی کا ذاتی مفاد ہو سکتا ہے مگر یہ ملکی مفاد نہیں ہے۔

بلاول بھٹو نے الزام لگایا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے ہتھکنڈے ماضی میں بھی استعمال کیے گئے لیکن پیپلز پارٹی نے پہلی بھی آمریت کا مقابلہ ڈٹ کر کیا اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

جمعرات کو لاڑکانہ میں ضمنی انتخابات میں نشست ہارنے پر بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ لاڑکانہ میں عام انتخابات کے دوران بھی دھاندلی ہوئی اور اب دوبارہ دھاندلی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ دھاندلی پر خاموش نہیں رہیں گے اور نشست واپس لینے کے لیے ہر فورم پر جائیں گے۔ ان کے مطابق لاڑکانہ ضمنی انتخاب میں سیکیورٹی اہل کار ووٹر لسٹ چیک کر رہے تھے۔ لاڑکانہ میں اندر اور باہر کا کھیل کھیلا گیا۔ خواتین ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ ہم کب تک اپنے ووٹ کی چوری برداشت کرتے رہیں گے ہم جھوٹ کو سچ نہیں مانتے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ آج عوام کی حاکمیت سے انکار کیا جا رہا ہے۔ ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا کر معاشی خود مختاری کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ سی پیک پر کام بند کر دیا گیا اور معیشت ڈوب رہی ہے۔

ان کے مطابق اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ کشمیر کا سودا کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ سلیکٹڈ لوگ عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔

جلسہ گاہ میں موجود افراد
جلسہ گاہ میں موجود افراد

بلاول کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار 2018 میں 3 روز تک انتخابی نتائج نہیں دیئے گئے۔ سیاسی مخالفین کو جیل میں بھیجا اور نااہل کیا گیا جب کہ کالعدم تنظیموں کو مین اسٹریم میں لا کر انتخاب جتوایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء اور مشرف کے دور میں بھی فوج پولنگ اسٹیشن کے اندر تعینات نہیں کی گئی مگر عمران خان کے لیے ایسا کیوں کیا گیا؟ فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر کیوں تعینات کیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ اداروں کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔ ادارے تحریک انصاف کے نہیں ہیں، ہم سب کے ادارے ہیں۔ مگر جب ادارے خاص مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے تو یہ متنازع ہوں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان میں اہلیت ہے نہ 20 کروڑ عوام کے مسائل سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ عمران حکومت نے پارلیمنٹ کو تالا لگا دیا ہے۔ اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 10 ہزار چار سو ارب روپے کا قرض لے کر ماضی کا ریکارڈ توڑ دیا۔

سانحہ 18 اکتوبر 2007 کا ذکر کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تلخ یادیں آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ 18 اکتوبر کے شہداء کو ہم بھولے ہیں نہ بھول سکتے ہیں۔ پارٹی کے لئے جانوں کی قربانی دینے والوں کی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو اپنی جان قربان کر گئیں مگر آمر کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی خاطر اپنی جان کی قربانی دے کر بھٹو کے فلسفے کو امر کر دیا۔

اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنما، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹر اور پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔

بلاول بھٹو نے تحریک کے آئندہ کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 23 اکتوبر کو وہ تھرپارکر اور 26 اکتوبر کو کشمور، جب کہ یکم نومبر سے پنجاب میں انٹری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹرز سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جمہوریت بحال کی جائے، ہم جعلی جمہوریت کو نہیں مانتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG