رسائی کے لنکس

’ اسلامی ملک میں جمعہ کالا نہیں ہو سکتا،


برازیل میں بلیک فرائی ڈے کی سیل کے موقع پر بڑی سکرین کے ٹیلی وژن کی فروخت کا ایک منظر۔ 24 نومبر 2017

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں بہت سے ملبوسات بنانے والے برانڈز نے بلیک فرئیڈے کی سیل کو وائٹ فرائیڈے سیل، بلیسڈ فرائیڈے سیل اور گولڈن فرئیڈے سیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

کنور رحمان خاں

اسلامی ملک میں جمعہ کالا نہيں ہو سکتا۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایوان میں بليک فرائي ڈے منانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بليک فرائيڈے کے خلاف اسمبلي سے واک آوٹ کیا۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی محمودالرشید نے ایوان میں کھڑے ہو کر کہا کہ جمعہ مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔ حکومت بلیک فرائیڈے پر پابندی لگائے اور اسے منانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ محمود الرشید نے کہا کہ جب تک حکومت شہر بھر میں لگے بلیک فرائیڈے کے بینرز نہیں اتار لیتی وہ اور ان کی جماعت ایوان کا اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔

'پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، شہر میں کوئی بھی شخص بلیک فرائیڈے کے نام پر کوئی بھی سرگرمی کرتا ہے، پولیس فوری اسے گرفتار کرتے اور اسے مجرم سجھ کر قرار واقعی سزا دے'۔

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں بہت سے ملبوسات بنانے والے برانڈز نے بلیک فرئیڈے کی سیل کو وائٹ فرائیڈے سیل، بلیسڈ فرائیڈے سیل اور گولڈن فرئیڈے سیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

آن لائن گھڑیاں فروخت کرنے والی ایک کمپنی کی سیلز گرل ثناء نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ خوف تھا لہذا انہوں نے بلیک فرائیڈے سیل کو کسی اور نام سے لگا دیا ہے۔

خواتین جو عام طور پر سستے کي تلاش ميں رہتی ہیں وہ سيل کے تو حق ميں ہيں ليکن اس کا نام تبديل ہونے پر خوش بھي ہيں ۔ لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع ایک سٹور میں خریداری کرتی ہوئی انیلا نیازی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تو صرف سستے کپڑوں سے غرض ہے۔ فرائیڈے بلیک ہو یا وائیٹ اس سے کیا فرق پڑتا ہے، یہاں کپڑے تو کم قیمت میں مل رہے ہیں نا'۔

ایک اور خریدار عمبرین رضا نے کہا کہ انہیں اس دن کا بہت انتظار تھا۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، یہ اچھا ہوا کہ کمپنیوں نے بلیک فرائیڈے ڈیلز کے نام بدل دیئے ہیں۔

'میں یہاں اپنی دوستوں کے ساتھ آئی ہوں، ہم سب نے بلیکن فرائیڈے ڈیلز سے پانچ پانچ سوٹ خریدے ہیں'۔

لاہور کے ایک شہری نے بلیک فرائیڈے مناے جانے کے خلاف لاهور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواست گزار نوید انور چودھری نے موقف اختیار کیا کہ مغربی تہذیب کی اندھا دھند تقلید نہیں کرنی چاہیئے ۔۔ سیل کے نام پر بلیک فرائیڈے منایا جا رہا ہے۔ غیر مسلموں کے تہوار منانے پر پابندی لگائی جائے۔ عدالت نے درخواست سماعت کے بعد وفاقی وزارت اطلاعات کو قانون کے مطابق کارروائی کے لیے حکم دے دیا ہے۔

پاکستان ميں پہلي مرتبہ بليک فرائي ڈے سيل کو وائٹ فرائي سيل ميں 2014 ميں ايک نجي آن کمپني کي جانب سے تبديل کيا گيا تھا۔ جس کے بعد يہ سلسلہ چل نکلا ہے۔ بلیک فرائیڈے سیل پر مختلف کمپنیاں اپنا مال تیس فیصد سے ستر فیصد پر نسبتاً کم نرخوں پر فروخت کرتی ہیں۔

بلیک فرائی ڈے امریکہ کا سب سے بڑا سیل ایونٹ ہے۔ امریکہ میں نومبر کی چوتھی جمعرات کو تھینکس گوونگ یعنی شکرانے کے دن کا قومی تہوار منایا جاتا ہے۔ اس سے اگلے روز یعنی جمعے کو کارورباری کمپنیاں تھینکس گوونگ کی خوشی میں انتہائی کم نرخوں پر اپنی چیزیں فروخت کرتی ہیں۔ اس دن سے کرسمس کی خریداریوں کے موسم کا آغاز ہو جاتا ہے۔

امریکہ میں بلیک فرائی کا تعلق کاروباری اصطلاح سے ہے۔ کاروباری افراد بہی کھاتے میں اپنا منافع کالے قلم سے اور نقصان سرخ قلم سے لکھتے ہیں ۔ تھینکس گوونگ سے اگلے دن کو بلیک فرائی ڈے اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر فروخت کی وجہ سے کاروباری افراد کو بہت زیادہ منافع ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG