رسائی کے لنکس

logo-print

مستونگ میں 'سی ٹی ڈی' کے قافلے پر حملہ، تین اہلکار زخمی


بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملے میں تین سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے، جن کو مقامی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔

ضلع مستونگ کے 'لیویز' حوالدار برکت شاہوانی نے 'وی او اے' کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) فورس کی تین گاڑیوں پر مشتمل قافلہ نوشکی میں ایک کالعدم مذہبی تنظیم کے روپوش کارکنوں کو گرفتار کرنے کےلئے جا رہا تھا۔ جب قافلے میں شامل گاڑیاں ضلع مستونگ کے علاقے شیخ واصل میں شرین آب میں ایک اسپیڈ بریکر کو عبور کر رہی تھیں، اسی دوران سڑک کے کنارے کھڑی کی گئی موٹر سائیکل میں نصب دیسی ساختہ بم میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے زوردار دھماکہ کیا گیا۔

دھماکے کی زد میں دو گاڑیاں آئیں اور ان میں سوار تین جوان زخمی ہوگئے جن کو مستونگ کے مقامی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

دھماکے کے بعد پولیس، ایف سی اور دیگر اداروں کے اہلکاران موقع پر پہنچ گئے اور شواہد جمع کئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعہ کی تفتیش شروع کر دی۔

دھماکے کی ذمہ داری کسی تنظیم یا گروپ کی طرف سے تاحال قبول نہیں کی گئی۔ تاہم، اسی ضلع میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے صرف ایک ہفتہ قبل ایک سیاسی رہنما کے جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں نوابزادہ میر سراج رئیسانی سمیت 150 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ اس سے پہلے سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین مولانا عبدالغفور حیدری اور شیعہ برادری کے ایران جانے اور وہاں سے واپس آنے والے قافلوں پر بھی کئی خودکش حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

وزارت داخلہ کے حکام کے بقول، اسی علاقے میں دو سال قبل مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں سرگرم عمل داعش کا کیمپ قائم ہونے سے پہلے پاک فوج کے جوانوں نے تباہ کر دیا تھا۔

تجزیہ نگاروں کے بقول، کارروائی کے باوجود اسی ضلع میں کئی خون ریز خودکش حملے کئے گئے جن میں درجنوں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG