رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ: کچلاک کی مسجد میں دھماکہ، 4 افراد ہلاک


دھماکا خیز مواد امام مسجد کے ممبر کے نیچے نصب کیا گیا تھا جس کے پھٹنے سے ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ (فائل فوٹو)

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے مضافاتی علاقے کچلاک کے قریب ایک مسجد کے اندر بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔

زخمیوں میں سے چار کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں امام مسجد بھی شامل ہیں۔

ڈی ایس پی پولیس شفقت محمود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جمعے کی نماز کی ادائیگی کے لیے جب لوگ مسجد کلی قاسم میں جماعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلی رکعت کے دوران ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

کلی قاسم کے ایک مقامی صحافی اعظم بازئی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دھماکہ جمعے کی نماز کی تیاری کے موقع پر ہوا۔ جیسے ہی نمازی صف بنانے کے لیے کھڑے ہوئے، مسجد کی محراب میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث بیشتر گروپوں کو سیکورٹی اداروں نے ختم کر دیا ہے۔ اب دھماکے کرنے کے لیے نئے گروپ پیدا ہو گئے ہیں، جن کا جلد ہی خاتمہ کر دیا جائے گا۔

وائس آف امریکہ کی پشتو زبان کی سروس ڈیوا کی ایک رپورٹ میں دہشت گرد حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دیتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوند کے بھائی مولانا الحمداللہ بھی شامل ہیں۔ تاہم، حکومت یا طالبان کی جانب سے اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔​

وزیر اعظم عمران خان اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔

صوبہ بلوچستان کے شمالی اضلاع میں رواں سال کے آغاز سے ہی بدامنی کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ صوبے کے مرکزی شہر کوئٹہ میں گزشتہ 25 روز کے دوران چار دھماکے ہوئے، جن میں 15 افراد ہلاک اور 86 زخمی ہوئے۔

کسی مسجد کے اندر یا اس کے قریب ہونے والا یہ تیسرا دھماکہ ہے۔ پہلے دو دھماکوں میں 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم، ان میں سے کسی بھی دھماکے کی ذمہ داری کسی بھی تنظیم یا گروپ نے قبول نہیں کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG