رسائی کے لنکس

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دو دھماکے، تین ہلاک دس زخمی


فائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملے میں تین سیکورٹی اہلکار اور 8 دوسرے زخمی ہوگئے، حملے کے بعد علاقے میں سرچ اپریشن شروع کردیا گیا۔

لیویز کے ایک افسر احمد خان نے وائس آف امر یکہ کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ایک گاڑی آواران بازار سے نوجوانوں کو لے کر کہیں جارہی تھی راستے میںؒ پیر ہندر کے قریب سڑک کے کنارے نصب کئے گئے دیسی ساختہ بم میں ریموٹ کنٹرول سے زوردار دھماکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں اس میں سوار گیارہ افراد زخمی ہوگئے۔

تمام زخمیوں کو دوسری گاڑی میں مقامی اسپتال پہنچایا گیا جہاں تین زخمیوں نے طبی امداد ملنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔ آواران اسپتال کے میڈیکل سُپرٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالحمید نے وی او اے کو بتایا کہ دیگر زخمیوں میں سے مزید دو کی حالت تشویشناک ہے۔

اُدھر ضلع تربت کی تحصیل تمبو میں بھی سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنا یا گیا جس میں دو سیکورٹی اہلکارزخمی ہوگئے جن کو تربت کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کی حالت تسلی بخش بتائی ہے۔

دونوں واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی تاہم اس سے پہلے ضلع آواران میں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ قبول کر تی رہی ہے۔

ضلع آواران میں اس سے پہلے بھی سیکورٹی فورسز کے قافلوں اور انتظامیہ کے افسران کی گاڑیوں پر حملے ہوتے رہے ہیں رواں سال جولائی کے مہینے میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر راکٹ حملے میں چھ اہلکار، اور اس سے پہلے جنوری میں ضلع تربت کے علاقے میں ایک حملے میں پانچ سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ضلع آواران کالعدم بلوچ عسکری تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا آبائی ضلع ہے آواران کی سرحدیں تربت، پنجگور اور بسیمہ سے لگتی ہیں جہاں اکثر و بیشتر سیکورٹی فورسز پر جان لیوا حملے کئے جاتے ہیں انہی اضلاع میں صوبہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے محنت مزدوری کے لئے یا غیر قانونی راستوں سے ایران اور دیگر ممالک جانے والوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG