رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی: بم دھماکوں میں فوجی افسر سمیت چار اہلکار ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں اتوار کو ہونے والے تین مختلف بم دھماکوں میں ایک فوجی افسر سمیت کم از کم چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

مقامی سکیورٹی حکام کے مطابق خرلاچی کے علاقے میں دیسی ساختہ بم کے دھماکے کے بعد جیسے ہی یہاں سکیورٹی اہلکار پہنچے تو مزید دو دھماکے ہوئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں ایف سی کے ایک افسر کیپٹن حسنین بھی شامل ہیں۔

دھماکوں کے نتیجے میں دو ایف سی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے زخمی ہونے والے دیگر اہلکاروں کو جب اسپتال منتقل کیا گیا تو وہاں کیپٹن حسنین سمیت دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

بم دھماکوں میں مرنے والے ایف سی کے افسر اور اہلکار
بم دھماکوں میں مرنے والے ایف سی کے افسر اور اہلکار

فوج کے مطابق یہ اہلکار اس ٹیم کا حصہ تھے جو چند روز قبل یہاں سے بازیاب کروائے گئے غیر ملکی خاندان کے اغوا کاروں کی تلاش میں مصروف تھی۔

پاکستانی فوج نے پانچ سال قبل افغانستان سے اغوا ہونے والی امریکی شہری کیٹلان کولمین اور ان کے کینیڈین شوہر جوشوا بوئیل اور تین بچوں کو امریکی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کر کے کرم ایجنسی کے افغان سرحد سے ملحقہ علاقے سے بازیاب کروایا تھا۔

شدت پسند کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر، ٹورنٹو آمد پر، بوئیل نے انکشاف کیا کہ یرغمالیوں کا تعلق حقانی نیٹ ورم سے منسلک طالبان سے تھا، جنھوں نے اُن کی بیوی سے جنسی زیادتی کی، اور اُن کے چوتھے بچے کو جو بیٹی تھیں، ہلاک کیا۔

افغان طالبان نے اتوار کو جوشوا بوائیل کے الزامات کو ''جھوٹے اور من گھڑت'' قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ باغی گروپ کو بدنام کرنے کے لیے دشمن کی جانب سے پھیلایا گیا پروپیگنڈہ ہے۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کولمن کا حمل ''قدرتی وجوہ کی بنا پر ضایع ہوا''۔

خرلاچی کا یہ علاقہ جہاں واقع ہے اس سے کچھ ہی فاصلے پر افغانستان کا طورغر (کوہ سفید) اور تورا بورا کے علاقے ہیں۔

کرم ایجنسی کا شمار پاکستان کے حساس ترین قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے جسے ایک عرصے تک شدت پسند سرحد پار افغانستان سے نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں سکیورٹی فورسز نے یہاں سے شدت پسندوں کو مار بھگانے کا بتایا تھا لیکن اس کے باوجود مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے عسکریت پسندوں کے حملوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں جب کہ قریبی علاقوں میں روپوش شدت پسند یہاں سکیورٹی فورسز کو بھی نشانہ بناتے آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG