رسائی کے لنکس

بنیاد پرست دینی لیڈر نابینا شیخ کا امریکی جیل میں انتقال


عمر عبدالرحمن المعروف نابینا شیخ۔ فائل فوٹو

وہ مصر میں اپنی سوچ سے مطابقت رکھنے والی اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے اور ا ن کے بنیاد پرست پیروکاروں نے  دنیا بھر میں بم دھماکے کیے اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

ایک انتہاپسند مسلم دینی لیڈر عمر عبدالرحمن ، جو 'نابینا شیخ' کے نام جانے جاتے تھے، امریکہ کی ایک جیل میں انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 78 سال تھی۔

نابینا شیخ کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں1993 کے بم دھماکوں کی سازش کرنے کے الزام میں سزا ہوئی تھی اور وہ امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی نٹنر جیل میں قید کاٹ رہے تھے۔

جیل کے ترجمان گریگ نارٹن نے بتایا ہے کہ وہ دس سال سے ذیابیطس اور دل کے امراض میں مبتلا تھے اور جیل کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔

لمبی سفید داڑھی، کالے شیشوں کی عینک اور سرخ اور سفید رنگ کی مخصوص ٹوپی پہننے والے مصری دینی لیڈر عبدالرحمن گذشتہ 20 سال سے جیل میں ہونے کے باوجود اپنے پیروکاروں کے لیے ایک روحانی راہنما کا درجہ رکھتے تھے۔

خبررساں ادارے روہئٹر کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ 1980 اور 1990 کے عشروں میں ایک شعلہ بیاں دینی لیڈر کی طرح ابھر کر سامنے آئے ۔ ان کی تعلیمات انتہاپسندی پر مبنی تھیں اوران کا کہنا تھا کہ ہر اس شخص کو ہلاک اور ہر اس حکومت کو الٹ دیا جائے جو ان کے مقررکردہ معیاروں پر پوری نہ اترتی ہو۔ وہ مصر میں اپنی سوچ سے مطابقت رکھنے والی اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے اور ا ن کے بنیاد پرست پیروکاروں نے دنیا بھر میں بم دھماکے کیے اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

سن 1938 میں مصر کی وادی نیل میں پیدا ہونے والے عبدالرحمن بچپن میں شوگر کے مرض کے باعث بینائی سے محروم ہوگئے تھے اور انہوں نے قرانی تعلیمات بریل کے ذریعے حاصل کیں۔ بعد ازاں انہوں نے ایک دینی راہنما کا درجہ حاصل کرلیا۔

سن 1981 میں انہوں نے مصر کے صدر انور سادات کے خلاف فتوی دیا جس کی پاداش میں انہیں جیل کی سزا ہوئی جہاں انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سن 1990 میں وہ سوڈان فرار ہوگئے جہاں امریکی سفارت خانے سے انہیں اس کے باوجود ویزہ مل گیا کہ ان کا نام ایسے انتہاپسند افراد کی فہرست میں درج تھا جن کی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ کمپیوٹر کی کوئی خرابی تھی۔

انہوں نے نیویارک میں اپنا مرکز قائم کرکے واعظ شروع کردیے اور تھوڑے ہی عرصے میں ان کے گرد بنیاد پر ستوں کا ایک بڑا حلقہ اکھٹا ہوگیا۔ نیویارک میں رہنے کے باوجود وہ مشرق وسطی کے لیے ایک بڑاخطرہ بنے رہے۔

سن 1993 میں امریکی حکام نے غلط معلومات کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے اور دو بیویاں لانے پر ان کاگرین کارڈ منسوخ کر کے ملک بدر کرنے کی کارروائی شروع کی تو اسی دوران ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ایک ٹرک بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

دھماکے کی سازش سے تعلق ثا بت ہونے کےبعد عبدالرحمن کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چللایا گیا اورانہیں اپنے 9 پیروکاروں کے ساتھ سزا دے کر 1995 میں جیل بھیج دیا۔

ان کے ایک پیروکار اسامہ بن لادن نے اس وعدے کے ساتھ امریکہ کے خلاف 11 ستمبر 2001 میں تباہ کن حملے کیے کہ وہ عبدالرحمن کو رہا کروائیں گے۔

دوسری جانب اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک اور پیروکار محمد مرسی نے اس وعدے پر الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی کہ عبدالرحمن کی رہائی ان کی اولین ترجیج ہوگی۔ کچھ ہی عرصے کےبعد مصر کی فوج نے صدر مرسی کو اقتدار سے الگ کرکے جیل میں ڈال دیا۔

XS
SM
MD
LG