رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان سے فوج کے انخلا پر نیٹو کے ساتھ مل کر کام کریں گے: امریکی وزیرِ خارجہ


امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ نیٹو کو مزید فعال بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے نیٹو ممالک کو یقین دلایا ہے کہ امریکہ نیٹو اتحاد کی تشکیل نو اور افغانستان سے افواج کے ممکنہ انخلا کے معاملے پر رُکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

برسلز میں واقع نیٹو ہیڈ کوارٹرز کے پہلے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اینٹنی بلنکن نے کہا کہ نیٹو ممالک کا اتحاد دنیا کو درپیش خطرات اور آب و ہوا کی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

بلنکن نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹالٹن برگ سے بھی ملاقات کی۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ "میں یہاں امریکہ کی نیٹو کے ساتھ وابستگی کے عزم کا اظہار کرنے آیا ہوں۔ امریکہ اس شراکت داری کو وسعت دے کر اتحاد کو مزید مؤثر بنانا چاہتا ہے۔"

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور نیٹو اتحاد کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ نیٹو اتحاد اپنی افادیت کھو چکا ہے۔

البتہ، نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے اتحاد کو مزید موثر بنانے کے عزم کو یورپی ممالک بھی اچھا شگون قرار دے رہے ہیں۔

افغان امن عمل کی تاریخ پر ایک نظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:32 0:00

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بلنکن سے ملاقات کے دوران اسٹالٹن برگ نے اُن شعبوں کی نشان دہی کی جس کے ذریعے اتحاد آب و ہوا کے چیلنجز اور فوجی آپریشنز کو امریکی تعاون سے مزید بہتر بنا سکتا ہے۔

افغانستان سے فوج کے انخلا سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اینٹنی بلنکن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کئی تجاویز زیرِ غور ہیں تاہم وہ اس معاملے پر اتحادیوں کی بات سنیں گے۔

خیال رہے کہ نیٹو کے وزرائے خارجہ آئندہ دو روز کے دوران افغانستان کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ سال دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت یکم مئی تک افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا مکمل ہونا ہے۔ تاہم امریکہ کی نئی انتظامیہ نے اس امن معاہدے پر نظرِ ثانی کا اعلان کیا تھا۔

طالبان کا یہ مؤقف ہے کہ یکم مئی تک اگر امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان سے نہ نکلیں تو وہ اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG