رسائی کے لنکس

یہ ایسا کمپیوٹر گیم ہے جس کے دوران کھیل ہی کھیل میں متعدد نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، کیونکہ کھیل کے آخری دن کھیلنے والے کو خود کشی کرنے کا ٹاسک دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ان دنوں کمپیوٹر گیم اور سوشل میڈیا سے معمولی واقفیت رکھنے والا بھی’ بلیو وہیل‘ چیلنج گیم کا تذکرہ کرتا دکھائی دیتا ہے جو بظاہر تو ایک گیم ہے لیکن نوجوانوں کے لئے ابھرتا ہوا ایک نیا خطرہ ہے۔

یہ ایسا کمپیوٹر گیم ہے جس کے دوران کھیل کھیل میں ہی متعدد نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کیونکہ کھیل کے آخری دن کھیلنے والے کو خود کشی کرنے کا ٹاسک دیا جاتا ہے۔ اب بلیو وہیل گیم کی اس خطرناک وبا نے پاکستان کا بھی رخ کرلیا ہے۔

پاکستان کے صوبہٴ خیبرپختونخوا کے علاقے مردان کے رہائشی 19 اور 21 سال کے دو نوجوانوں کے پشاور میں اسپتال پہنچنے کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ بلیو وہیل چیلنج تھا جس کا ٹاسک پورا نہ کرنے پر دونوں شدید ڈپریشن کا شکار ہوگئے۔

خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ماہر نفسیات ڈاکٹر عمران خان کے مطابق دونوں نوجوانوں نے بلیو وہیل گیم کھیلانا شروع کیا۔ لیکن، جیسے جیسے یہ آگے بڑھتے رہے گیم کے ٹاسک مشکل ہوتے گئے۔ مثلاً نوجوانوں کو بازو پر بلیڈ کی مدد سے بلیو وہیل بنانا۔

نوجوان ٹاسک پورا کرنے کے چکر میں ڈپریشن میں مبتلا ہوگئے۔ دونوں کو یہ احساس ہوا کہ یہ کھیل ان کو نقصان پہنچا سکتا ہے اس لئے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایک نوجوان آئی ٹی کا ماہر ہے وہ صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ گیم واقعی خطرناک ہے یا نہیں۔

ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عمران خان کا کہنا تھا کہ بلیو وہیل چیلنج کو زیادہ تر ایسے افراد کھیلتے ہیں جو پہلے سے کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

انگریزی اخبار ’ٹری بیون‘ کی ایک خبر کے مطابق، 16 سال کی ایک لڑکی کو بھی خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور لایا گیا تھا۔ لڑکی نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔

لڑکی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اعزاز جمال نے بتایا کہ لڑکی کمپیوٹر کے استعمال کی عادی تھی اور بلیو وہیل چیلنج کے آخری روز اس سے خود کی جان لینے کو کہا گیا تھا۔ ٹاسک مکمل نہ کرنے کی صورت میں لڑکی کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ تاہم، بر وقت اسپتال آنے کی وجہ سے لڑکی کی جان بچ گئی۔

ڈاکٹر اعزاز نے والدین پر زور دیا کہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں خصوصاً ایسے بچوں پر جو کمپیوٹر گیمز کے عادی ہوں۔ اگر کوئی اس گیم کے جال میں پھنس جائے تو ماہر نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کرے۔

آئی ٹی کے ماہر کاشف علی کے مطابق نام نہاد گیم ’بلیو وہیل چیلنج‘ گوگل، ونڈوز یا ایپل ایپ اسٹورز پر دستیاب نہیں۔ واٹس ایپ اور دیگر پرائیوٹ سوشل میڈیا گروپس پر مشتبہ لنکس شیئر کرائے جاتے ہیں جن پرکلک کرنے سے گیم ڈاؤن لوڈ ہوتا ہے۔

گیم پر لوگ ان ہونے کے بعد یوزر کا تمام ڈیٹا گیم ایڈمنسٹریٹر کے پاس چلا جاتا ہے۔ اگر کوئی گیم کو چھوڑنا چاہے تو ان معلومات کی بنیاد پر کھلاڑی یا اس کے گھر والوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے تمام مشتبہ گروپس اور لنکس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

بلیو وہیل چیلنج اس وقت دنیا بھر کے میڈیا کی شہ سرخی بنا جب روس سے یہ خبریں آئیں کہ بلیو وہیل گیم کھیلنے والے 130 نوجوانوں نے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ بلیو وہیل گیم کے کیوریٹر یا ایڈمنسٹریٹر گیم کھیلنے والے کو مختلف ہدف دیتے ہیں۔

شروع شروع میں یہ ہدف نسبتاً آسان ہوتے ہیں جیسے ڈراؤنی فلم دیکھنا یا صبح کے تین بجے اکیلے باہر جانا۔ لیکن، جیسے جیسے گیم آگے بڑھتا ہے ہدف مشکل اور خطرناک ہوتے جاتے ہیں۔ گیم کا دورانیہ 50 دن پر مشتمل ہے پچاسویں دن گیم کھیلنے والے کو خود اپنی جان لینے کا ٹاسک دیا جاتا ہے۔ یہی نہیں کھیلنے والوں کو ہر ٹاسک کی ویڈیو اور تصاویر بطور ثبوت بھیجنے کا پابند بھی کیا جاتا ہے۔

بلیو وہیل چیلنج کے حوالے سے پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق مدراس ہائی کورٹ نے بلیو وہیل گیم پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی۔

دہلی ہائی کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کو بلیو وہیل چیلنج پر پابندی عائد کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم، پاکستان میں ابھی ایسا کچھ سننے میں نہیں آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG